۲۰ اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
بلکہ دینی علوم کے بارے میں بھی ان کی معلومات بہت ناقص ہیں۔ اس کے باوجود ہر آدمی زبان اور قلم کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق ، وہ عالمی سیاست کا ماہر ہے۔ مگر کسی کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ جس بات کو جانتا ہوا سی پر بولے اور جس بات کو وہ نہ جانتا ہو اس کے بارے میں وہ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔
فارسی کا ایک مقولہ ہے — یک من علم راده من عقل می باید (ایک من علم کے لئے دس من عقل چاہئے) آج کل بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ یا تو اُن کے پاس ایک من علم نہیں یا اگر ان کے پاس ایک من علم ہے تو ان کے پاس دس من عقل نہیں۔ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مادی مفادات کو تو خوب جانتے ہیں مگر علمی اور تاریخی باتوں کے بارے میں ان کی واقفیت بے حد ناقص ہے۔ علم کی اس کمی کا مزید نقصان یہ ہے کہ وہ فن تفکیر (art of thinking) کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہاں تک کہ ان کے خواص بھی فن تفکیر سے نابلد ہیں۔ حالانکہ فن تفکیر سے آگہی تبصرہ اور تجزیہ کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ عراق کی سیاست یا عالمی تناظر میں مسلم سیاست کے بارے میں بظاہر ہر ایک لکھ اور بول رہا ہے مگر یہ سب بیشتر خطابت اور شاعری کی زبان میں ہوتا ہے۔ واقعات کا گہرا تجزیہ کر کے درست رائے تک پہنچنا جیسے کہ ان کا نہ تو کنسَرن ہے اور نہ ان کے اندر اس کی استعداد موجود ہے۔ ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ ختم ہوگئی ۔ اس جنگ میں جو نقصانات ہوئے ان کا اندازہ کرنا ابھی مشکل ہے۔ بی بی سی لندن نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک امریکی حکومت کے ۲۰ بلین ڈالر خرچ ہوئے ۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ سے لے کر اب تک امریکا کی اقتصادیات پر جو زبردست اثرات پڑے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا کے تین سو ہوائی جہاز گراؤنڈ کردئے گئے ہیں۔ امریکا کی ہوائی کمپنیوں کو روزانہ ۵ ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، وغیرہ۔
دوسری طرف عراق ہر اعتبار سے تباہ ہو چکا ہے۔ صدر صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت اچانک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues