Al-Risala · July 2003 · page

۲۰ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

ختم ہوگئی۔ صدام حسین نے عراق میں اپنے لیے 8 عالیشان محل بنائے تھے۔ اُن میں سے ایک، خبر کے مطابق، ایسا زمین دوز محل تھا جس کے اندر بیس میٹر موٹی زمینی چھت تھی۔ یہ چھت اعلیٰ ٹیکنیک کے ذریعہ لوہے اور دوسرے معدنی اجزاء سے اس طرح بنائی گئی تھی کہ ایٹم بم کے سوا کوئی اور بم اس کو توڑ نہ سکے۔ مگر امریکی فوج نے اُس پر ۲۰۰۰ سے زیادہ تباہ کن بم برسائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہاڑ جیسی چھت اور پورا محل پگھل کر ایک جامد چٹان کی طرح ہوگیا۔ اس کے اندر جو لوگ چھپے ہوئے تھے ان کا کوئی نام ونشان تک باقی نہ رہا۔

اس سلسلہ میں عجیب بات یہ ہے کہ امریکا کے زبردست اقتصادی نقصان اور عراق کی غیر معمولی تباہی کے باوجود صدام کا ابھی تک پتا نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ مر گئے یا زندہ ہیں۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص صدام حسین کا سر لائے گا اسے دو لاکھ ڈالر انعام دئے جائیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عراق کی یہ جنگ متشددانہ طریقہ کار کا آخری تجربہ ہے۔ ایک طرف صدام حسین نے عراق کی تیل کی دولت کو مسرفانہ حد تک خرچ کرکے زبردست جنگی تیاری کی۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کی قیادت میں عراق پوری مسلم تاریخ کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ دوسری طرف امریکا نے جدید ترین ٹکنالوجی کو جنگی سازوسامان کے لیے بھر پور استعمال کیا یہاں تک کہ وہ واحد سپر پاور بن گیا۔ اس طرح دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو جنگ کا کوئی حقیقی فائدہ کسی کے حصہ میں نہیں آیا۔

عراق کی اس جنگ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔ جہاں تک میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دو جنگی طاقتوں کا یہ ٹکراؤ غالباً اس پیشین گوئی کے مطابق تھا جو حدیث میں آئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرات کے علاقہ میں سونے کا پہاڑ نکلے گا جس پر قومیں جنگ کریں گی۔ یہ جنگ قیامت کی قربت کی ایک علامت ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہی وہ جنگ تھی اور اب غالباً قیامت کے آنے میں زیادہ دیر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page