Al-Risala · July 2003 · page

۲۰ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

صدام حکومت میں ناجی صبری عراق کے وزیر خارجہ تھے۔ بی بی سی لندن نے ۳۱ مارچ ۲۰۰۳ کو اُن کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی ذہنی طور پر جنگ ہار چکے ہیں۔ بغداد کے داخلی دروازوں پر یقینی موت امریکی اور برطانوی فوجیوں کا انتظار کر ی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی فوجیوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے اور ہم انہیں اب ایک آخری موقع دیتے ہیں کہ اتحادی فوج تیزی کے ساتھ پسپا ہو جائے ورنہ وہ بہت نقصان میں رہے گی۔ اتحادیوں کی عراق میں مکروہ خواہشات پوری نہیں ہوسکیں، جارحیت ناکام ہو گئی ہے۔ عراقی فوجی، فدائین اور عراقی عوام نے اُن پر جو کاری ضرب لگائی ہے اُسے وہ بہت دیر تک بلکہ صدیوں تک یاد رکھیں گے۔ عراق کے خلاف جارحیت میں بہت سے اتحادی مارے گئے ہیں، بہت سے زخمی ہوئے ہیں اور بہت سے اتحادی جنگ سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ اتحادیوں نے جو جھوٹ بولا عراقی فوج نے اُس کا پول کھول دیا۔ شکست اُن کا مقدر اور فتح ہمارا مقدر رہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا عراق میں شکست کے بعد اب سپر پاور نہیں رہا (نوائے وقت، یکم اپریل ۲۰۰۳)

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈرس طرح خیالی بنیاد پر اپنا سیاسی قلعہ تعمیر کرتے ہیں۔ وہ شکست کی خبر کو فتح کی خبر بناتے ہیں۔ وہ پسپائی کو اقدام کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عجیب و غریب طور پر ناکامی کو بیان کرنے کے لیے کامیابی کے الفاظ پا لیتے ہیں۔ یہی واقعہ موجودہ زمانہ میں بار بار ہر جگہ پیش آیا ہے اور یہی واقعہ عراق میں بھی پیش آیا۔ ۲۳ اپریل ۲۰۰۳ عراق کی جنگ کا ایک نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ مسلم ممالک میں نیٹو (NATO) کے انداز کی ایک دفاعی تنظیم بنائی جا رہی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نیٹو کی طرز پر میٹو (MATO) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ملیشیا کے وزیراعظم اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے میٹو کی تشکیل کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page