۲۴ اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
رابطے شروع کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مسلم ممالک کی ایک کثیر تعداد میں فوج تیار کی جائے گی اور کسی بھی میٹو ملک پر حملہ تمام ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایک مسلم ملک کے سربراہ کے مطابق، اس معاہدے پر دستخط کے لیے مسلم ممالک کے سربراہان حرم شریف میں جمع ہوں گے جب کہ اس کا صدر مقام بھی مکہ میں ہی ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق، میٹو کا نام اور بنیادی تصور بین الاقوامی سیاسی و سفارتی امور کے ایک پاکستانی نژاد رہنما اور عرب لیگ سے تعلق رکھنے والی دو اہم شخصیات نے پیش کیا ہے ۔ (نوائے وقت ، لاہور، اپریل ۲۰۰۳ ، صفحہ ۳)
میرے نزدیک یہ محض ایک رزمیہ شاعری ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس طرح کا معاملہ پہلے عمل کے اندر ظہور میں آتا ہے اور پھر اُسے کا غذ پر لکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے وہ کاغذ پر لکھا جائے اور پھر یہ کاغذی الفاظ عمل کی صورت میں ڈھل جائیں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ۵۷ مسلم ملک ہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ تمام ملک کسی مسلم ایشو پر متحد ہو گئے ہوں۔ جو لوگ اتنے نازک مسئلہ پر متحد ہو کر رائے بھی نہ دے سکیں وہ آخر ہو کر عمل کس طرح کریں گے۔
۲۴ اپریل ۲۰۰۳
پاکستان کے اُردو روزنامہ نوائے وقت (لاہور) کے شمارہ ۱۳ اپریل ۲۰۰۳ میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف (حال مقیم ریاض) کا ایک بیان چھپا تھا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ سقوط بغداد عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ اسلام کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ نے سلامتی کونسل اور عالمی رائے عامہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے عراق پر حملہ کیا اور معصوم بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا جو کھلی دہشت گردی ہے۔ امریکا نے عراق پر حملہ کر کے ہلاکو خاں اور چنگیز خاں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ عالم اسلام امریکا اور برطانیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ (صفحہ ۱۶)
یہی بات آج کل تمام دنیا کے مسلمان مختلف الفاظ میں کر رہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues