Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

”مذہبی پارلیمنٹ“ کے منتظمین نے کہا کہ ”مذہبی پارلیمنٹ“ نے دنیا کو مذہبی جنون سے بچالیا‘۔ یہ میرے نزدیک ایک خیالی بات ہے۔ عالمی انقلاب کبھی کسی جلسہ یا سیمینار کے ذریعہ ظہور میں نہیں آتا۔ اس قسم کا جلسہ صرف ایک مظاہرہ ہے۔ انسانوں کے درمیان کوئی حقیقی انقلاب لانے کے لیے ایک مسلسل فکری تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قسم کا انقلاب ہمیشہ طویل فکری جدوجہد کے ذریعہ آتا ہے، نہ کہ وقتی قسم کے مظاہروں سے۔

بہائی مذہب کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ بہائی لوگوں کے درمیان آپس میں سلام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: اللہ ابهی (God is most glorious)۔ واضح ہو کہ بہائی مذہب کے بانی کا نام بہاء اللہ تھا۔

رشی کیش میں ایک اور بات معلوم ہوئی جس کا ابھی تک مجھے علم نہ تھا۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کے پان اسلام ازم کی طرح ہندوؤں میں ایک عالمی تحریک پان ہند وازم کے نام پر چل رہی ہے۔ اس کا مقصد تمام دنیا کے ہندوؤں کو متحد کرنا ہے جن کی تعداد تقریباً ایک ارب بتائی جاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہوا، یہ تحریک تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ مثلاً یہاں پر تُگال کے ایک ہندو لیڈر ملے۔ انہوں نے بتایا کہ پر تگال میں بسنے والے تمام ہندوؤں کو انہوں نے ایک اتحاد میں جوڑ دیا ہے۔ موجودہ ہندوؤں کے ذہن میں یہ خیال ڈالا جا رہا ہے کہ مستقبل میں ہندوؤں کے لیے خطرہ عیسائیت وغیرہ سے نہیں ہے بلکہ صرف اسلام سے ہے۔ اس لیے اپنے خیال کے مطابق ، وہ ہر قیمت پر اسلام کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے ہندوؤں سے ملاقات ہوئی جو عربی اور فارسی زبانیں بے تکلف بولتے تھے۔ میں نے ایسے ہی ایک ہندو سے کہا: حال شما چیست۔ اُس نے خالص ایرانی لہجہ میں اس کا جواب دیا۔

رشی کیش کے اس عالمی اجتماع کو کنڈکٹ کرنے یا چلانے کا کام ایک ۳۵ سالہ خاتون کر رہی تھیں ۔ وہ ایک امریکن خاتون تھیں۔ مگر انہوں نے ہندو مذہب کو اپنا لیا تھا اور اب اُن کا نام بھاگونتی تھا۔ وہ سفید رنگ کی ساڑی پہنے ہوئی تھیں اور انتہائی پھرتی کے ساتھ تمام پروگرام کو چلا رہی تھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page