۲۵ اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
بالکل بے بصیرتی کی بات ہے۔ اگر بالفرض امریکا اور برطانیہ چنگیز اور ہلاکو کی تاریخ دہرارہے ہیں تو اُس کے مقابلہ میں سب وشتم کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے لوگوں کو کہنا چاہئے کہ ہم بھی اُس تاریخ کو دہرائیں گے جو چنگیز اور ہلاکو کے معاصر مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ اُس زمانہ کے مسلمانوں نے یہ کیا تھا کہ انہوں نے جواب میں اسلامائزیشن آف تاتار کی مہم چلائی۔ یہاں تک کہ تاریخ کو برعکس طور پر بدل دیا۔ اسی طرح آج کے مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اسلامائزیشن آف امریکا کی مہم چلائیں اور دوبارہ تاریخ کے دھارے کو اپنی موافقت میں بدل دیں۔ یہی اسلام کی تاریخ ہے۔ سب وشتم کرنا یا مال کے بائیکاٹ کی دھمکی دینا، اس طرح کی باتیں محض بے سود ہیں۔ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے، نہ کہ پیش آمدہ صورت حال کا سامنا کرنا۔
۲۵ اپریل ۲۰۰۳
امریکا اور عراق کی موجودہ جنگ کو عراق کے صدر صدام حسین نے معرکہ الحواسم کا نام دیا تھا۔ یعنی فیصلہ کن جنگی معرکہ۔ صدر صدام حسین نے یہ کہا تھا تو اُن کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ جنگ امریکا کی شکست پر ختم ہوگی۔ عراق کی سر زمین امریکی فوجوں کے لیے قبرستان ثابت ہوگی۔ آخر کار امریکا مجبور ہوگا کہ وہ اپنے فوجیوں کی لاشوں کو لے کر عراق سے بھاگ جائے۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ امریکا نے نہ صرف فضائی حملہ میں بلکہ زمینی جنگ میں بھی عراق کی فوجوں کو بری طرح شکست دی۔ صدر صدام حسین نے اتنی زبردست تیاری کی تھی کہ وہاں کے جنگی ماہرین کو فخر کے ساتھ میزائل حسین اور کیمیکل علی کہا جانے لگا۔ مگر یہ ساری تیاریاں محض غبارہ ثابت ہوئیں۔ صدر صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود عراقی حکومت کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ صدر صدام حسین اس طرح ختم یا روپوش ہو گئے جس طرح اسامہ بن لادن یا ملا عمر ہو گئے تھے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی شاید سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ الفاظ کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے الفاظ بولنے والے کو اپنا لیڈر بنا لیتے ہیں۔ غالباً موجودہ مسلمانوں کی یہی سب
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues