Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

اجلاس کے دوران انہوں نے انگریزی میں بولتے ہوئے مجھے تقریر کے لیے مدعو کیا۔ میں نے سادہ اُردو زبان میں اپنی تقریر کی۔ تقریر کے بعد وہ میرے پاس آئیں اور میری تقریر پر اچھے تاثر کا اظہار کیا۔ میں نے کہا کہ یہاں جو لوگ اکٹھا ہیں اُن کی اکثریت ہندی سمجھتی ہے اس لیے میں نے اپنی تقریر ہندی زبان میں کی۔ میں نے اُن سے یہ بات انگریزی میں کہی تھی۔ اس کو سن کر انہوں نے امریکی لہجہ میں کہا:

مولاناصاحب ، میں ہندی سمجھتی ہوں۔

رشی کیش میں جو نئی باتیں معلوم ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ سنسکرت پاٹھ شالا ئوں میں ایک مستقل شعبہ ہوتا ہے جس کو کتھا کار یتا کہتے ہیں۔ اس شعبہ میں خصوصی تربیت کے ذریعہ کتھا کار تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ لوگ کرشن کتھا اور رام کتھا جیسے پروگرام کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی تقریروں کو قصے کہانیوں اور لطیفوں اور مختلف اداؤں کے ساتھ اتنا دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ سننے والے گھنٹوں دلچسپی کے ساتھ اُس کو سنتے رہتے ہیں۔ دیکھنے والوں نے بتایا کہ اُن کی تقریر کے دوران ایسے بھی لمحات آتے ہیں جب کہ لوگ باقاعدہ رونے لگتے ہیں۔ کبھی اُن پر وجد (ecstacy) کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

عجیب بات ہے کہ یہ کتھا کار کئی کئی گھنٹے مسلسل بولتے ہیں، مگر اُن کی آواز میں فرق نہیں آتا۔ اُن کے گلے کی طاقت بدستور یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔ ان لوگوں کو ہر کتھا پر بڑی بڑی رقمیں ادا کی جاتی ہیں۔

کتھا کار کی ایک خصوصیت پر مجھے بہت تعجب تھا۔ وہ یہ کہ مسلسل کئی گھنٹہ تک بولنے کے باوجود اُن کی آواز خراب کیوں نہیں ہوتی۔ ایک انگریزی صحافی نے اس کا راز بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں میں کتھا کار سے ملا اور اُن سے دوسری باتوں کے ساتھ ان کے گلے کی طاقت کا راز بھی دریافت کیا۔ کتھا کار نے کہا کہ یہ سب ہمارے گرو کی کرپا ہے۔ کتھا کار نے مذکورہ جرنلسٹ کو ایک پڑیا دکھائی اور کہا کہ یہ ہمارے گرو کی دی ہوئی ہے اور اس کا نام مسٹیریس پاؤڈر (mysterious powder)ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page