سوئٹزر لینڈ کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴
سامنے آئے ۔ اس سفر کی روداد مختصر طور پر یہاں درج کی جاتی ہے۔
سوئٹزر لینڈ کے لیے میرا یہ سفر پیس انٹرنیشنل کی دعوت پر ہوا۔ منتظمین نے میرے لیے اور میرے ساتھی کے لیے سوئس ایر میں دو سیٹ پیشگی ریزرو کر دی تھی ۔ مگر عملاً مجھے ٹکٹ کافی دیر سے، آخروقت میں ملا۔ اس سلسلہ میں ہمارے آفس سے انٹرنیٹ کے ذریعہ کئی ای میل بھیجے گئے ۔ ۴ اکتوبر کودہلی میں سوئس ایر کے آفس میں اس کے بارے میں ٹیلی فون کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کمپیوٹر پر دو سیٹ ریزرو ہے۔ مگر اس کے لیے سوئٹزر لینڈ والوں کی طرف سے وہاں کے آفس میں ابھی ٹکٹ کی رقم جمع نہیں کرائی گئی ہے۔ پوچھا گیا کہ سوئٹزر لینڈ میں رقم جمع ہونے کے کتنی دیر کے بعد دہلی میں آپ ٹکٹ ایشو کر دیں گے۔ جواب میں آواز آئی کہ بس دو منٹ میں۔
اس کے بعد ہمارے آفس کی طرف سے سوئٹزر لینڈ کے آفس کے نام ای میل سے پیغام بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں رقم جمع کر دی ۔ ۴ اکتوبر کو دوپہر میں یہ کارروائی ہوئی۔ اسی دن تھوڑی دیر کے بعد دہلی میں سوئس ایر کے دفتر سے ٹیلی فون ملا کہ آپ کے دونوں ٹکٹ تیار ہیں ۔ اس کے جلد ہی بعد دونوں ٹکٹ ہمیں مل چکے تھے۔ یہ جدید کمیونی کیشن کا کرشمہ ہے۔ دہلی اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان آٹھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ مگر یہ پوری کارروائی بہت تھوڑے وقت میں اس طرح انجام پائی جیسے کہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں۔
سوئٹزرلینڈ کے لئے میرا پہلا سفر دسمبر ۱۹۸۶ میں ہوا۔ یہ سفر ورلڈ کونسل آن ریلیجس لبرٹی (The World Council on Religious Liberty) کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس سفر کی روداد ماہنامہ الرسالہ فروری، مارچ ۱۹۸۷ میں دو قسطوں میں شائع ہو چکی ہے۔ مذکورہ کانفرنس کی کارروائی سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں انجام پائی تھی۔
سوئٹزرلینڈ کے لیے میرا دوسرا سفر جولائی ۲۰۰۱ میں ہوا۔ یہ سفر نیو کلیئر ڈس آرمامنٹ فورم (Nuclear Disarmament Forum) کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس سفر کی روداد ماہنامہ الرسالہ مارچ ۲۰۰۲ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ شائع ہو چکی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues