Al-Risala · August 2003 · page 5

سوئٹزر لینڈ کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۵

سوئزرلینڈ کے لیے میرا تیسرا سفر موجودہ سفر تھا جو اکتوبر ۲۰۰۲ میں ہوا۔ یہ سفر دوبارہ نیو کلیئر ڈس آرمامنٹ فورم کمی دعوت پر ہوا جو پیس انٹرنیشنل کا ذیلی شعبہ ہے۔ اس کانفرنس کی کارروائیاں سوئزرلینڈ کے تاریخی شہر ژوگ میں انجام پائیں۔

سوئزرلینڈ یورپ کا ایک درمیانی ملک ہے۔ اس کے پاس سمندری ساحل نہیں۔ یعنی وہ ایک لاگڈ (Logged) کنٹری ہے۔ موجودہ کمیونی کیشن کے زمانہ میں کسی ملک کا سمندری ساحل سے محروم ہونا ایک بہت بڑی کی سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کمی کے باوجود سوئزرلینڈ ایک ترقی یافتہ ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔

عراق صرف جزئی طور پر سمندری ساحل سے محروم ہے۔ یعنی اس کا ساحل بہت چھوٹا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے عراق نے اپنے تمام وسائل کو استعمال کر کے زبردست فوج بنائی اور اپنے پڑوسی ملک کویت پر حملہ کر دیا تا کہ اس کے ساحلی حصہ پر قبضہ کر کے اپنی سمندری کمی کی تلافی کرے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ سوئزرلینڈ برابر ترقی کر رہا ہے مگر عراق اتنا زیادہ تباہ ہو گیا کہ شاید سو سال میں بھی اس کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس فرق کا سبب پر تشدد طریقہ کار اور پرامن طریقہ کار کے فرق میں چھپا ہوا ہے۔ سوئزرلینڈ نے اپنی سمندری محرومی کی تلافی اس طرح کی کہ اس نے اپنی کوئی طاقتور فوج نہیں بنائی تاکہ اس کا کوئی پڑوسی اس سے خوفزدہ نہ ہو۔ اس نے اپنے پڑوسی ملکوں سے یکطرفہ طور پر اچھے تعلقات کئے۔ اس نے ضرر رسانی کے بجائے نفع رسانی کو اپنا طریقہ کار بنایا۔ جب کہ عراق نے اس کے بالکل برعکس طریقہ کار کو اپنایا۔ نتیجہ بتاتا ہے کہ دونوں میں سے کون سا طریقہ زیادہ مفید ہے۔

سوئزرلینڈ کے اس سفر میں ایک ہندوستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی کام کے تحت یورپ جا رہے تھے۔ میرے ساتھی نے اُن کو بتایا کہ سوئزرلینڈ کے ایک عالمی ادارہ پیس انٹرنیشنل کی طرف سے مجھے ایک پریس میں ایوارڈ دیا جا رہا (Demiurgus Peace International) ہے۔ یہ سن کر انہوں نے کہا:

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page