Al-Risala · August 2003 · page 6

سوئٹزر لینڈ کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۶

ہندوستان کے مسلمان تو تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ پھر اس قسم کے ایوارڈ پر خوشی کیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت کے بارے میں یہ منفی سوچ کوئی انفرادی نہیں، وہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے افراد اسی قسم کی باتیں لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے مزاج کو شکایتی مزاج بنا دیا ہے۔

اس کے بعد سوال و جواب کے دوران مذکورہ ہندوستانی مسلمان نے بتایا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے اُس کے خاندان کی معاشی حالت بالکل معمولی تھی۔ آج وہ ایک ایکسپورٹ بزنس کرتے ہیں۔ ۱۹۴۷ء کے مقابلہ میں آج وہ معاشی اعتبار سے سوگنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہی حالت ہندوستان کے بیشتر مسلمانوں کی ہے۔ موجودہ ہندوستان میں جو مسلمان بھی کسی کام میں مصروف ہے، اُس سے پوچھئے کہ ۱۹۴۷ء میں اُس کے خاندان کی اقتصادی حیثیت کیا تھی اور آج کیا ہے، تو معلوم ہوگا کہ اس مدت میں تقریباً ہر مسلم فرد اور ہر مسلم ادارہ نے بہت زیادہ ترقی کی ہے۔

یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے پاکستانی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کو قربان کر کے پاکستان بنائیں گے۔ کٹر ہندو یہ سمجھتے تھے کہ آزادی کے بعد یہاں کے مسلمانوں کا وہی انجام ہوگا جو اس سے پہلے اندلس میں ہوا۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے تمام مسلم رہنما اور مسلم دانشور اپنے پچھلے ذہن کے تحت یہ خبر دیتے رہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، وہ سخت متعصبانہ سلوک کا شکار ہیں۔ انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گویا "مسلم میڈیا" کے مطابق، ہندوستان کو دوسرا اسپین بنانے کا عمل برابر جاری رہا۔ مگر ان سب کے باوجود ہندوستان کے مسلمان ہر اعتبار سے غیر معمولی ترقی کا سفر کرتے رہے۔

دہلی کے مسلمانوں کی آج کی حالت کا تقابل اُن کی ۱۹۴۷ء کی حالت سے کیجئے ۔ حیدر آباد کے آج کے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کا تقابل اُن کی اس حالت سے کیجئے جو نظام اسٹیٹ کے زمانہ میں اُن کی تھی۔ اسی طرح دوسرے شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں کی حالت کا تقابل اس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page