Al-Risala · August 2003 · page 7

سوئٹزر لینڈ کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۷

انداز سے کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ کے مسلمانوں نے اس مدت میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب : ہندوستانی مسلمان)

آزادی کے بعد ۵۵ سال کی مدت میں یہ حیرت انگیز واقعہ آیا ہے۔ ضرورت تھی کہ اس واقعہ پر ریسرچ کرکے اُس سے سبق حاصل کیا جائے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے موجودہ مسلمان شکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں اور جو لوگ شکایت کی نفسیات میں جئیں وہ مثبت حقیقتوں کو جاننے کے لیے اُسی طرح نااہل ہوجاتے ہیں جس طرح روایتی ساس اپنی شکایتی نفسیات کی بنا پر اپنی بہو کی خوبیوں سے بے خبر رہتی ہے اور اسی طرح روایتی بہو اپنی شکایتی نفسیات کی پر ساس کی خوبیوں کو دریافت نہیں کرپاتی۔

اللہ کے فضل سے میرے اندر شکایتی مزاج نہیں۔ اپنے اس غیر شکایتی مزاج کی بنا پر میں نے اس معاملہ کی غیر جانب دارانہ تحقیق کی۔ اس تحقیق کے بعد مجھ پر ایک عظیم حقیقت کا انکشاف ہوا۔ وہ یہ کہ یہ فرق دور میں فرق کی بنا پر ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا۔ اُس وقت وسائل معاش بہت کم تھے۔ لوگ صرف محدود دائرہ میں اپنی کوشش کر سکتے تھے۔ مگر آزادی کے بعد ہندوستان میں تیزی سے صنعتی دور آیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے اقتصادی ترقی کے مواقع لامحدود حد تک بڑھا دیے۔ ان نئے حالات کی بنا پر کسی کے لیے یہ ممکن ہی نہ رہا کہ وہ کسی دوسرے کی ترقی کو روک سکے۔ یہ انقلاب بلاشبہ قرآن کے الفاظ میں : ویرزقه من حيث لا يحتسب (الطلاق ۳) کا معاملہ تھا۔ یہ اس قابل تھا کہ سارے مسلمان شکر کے جذبہ سے سرشار ہو جائیں۔ مگر اُن کی شکایتی نفسیات نے اُنہیں اس عظیم دریافت سے محروم کر دیا اور اسی طرح عظیم شکر گزاری سے بھی۔ اسی قسم کا ایک تجربہ سوئزر لینڈ میں بھی پیش آیا۔ وہاں اتفاقی طور پر ایک عرب مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ تعلیم یافتہ تھے مگر وہ مجھے مایوسی کا شکار نظر آئے۔ انہوں نے موجودہ مسلم دنیا کی تاریک تصویر پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں مجھے ایک انگریزی کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page