سوئٹزر لینڈ کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۸
ملی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک محروم گروپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں کی جمہوریت میں وہ غیر موثر ہوکر رہ گئے ہیں۔ چنانچہ کتاب کا نام تھا، منفعل آوازیں: Passive Vioces میں نے کہا کہ یہ کتاب میں نے دیکھی ہے۔ مگر وہ ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتی۔ آپ کو اگر ہندوستانی مسلمانوں سے دلچسپی ہے تو آپ سفر کر کے ہندوستان جائیں اور وہاں کے مسلمانوں کا سروے کریں۔ آپ ہندوستانی مسلمانوں سے صرف ایک سوال کریں: ۱۹۴۷ء میں تمہارے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج تمہاری معاشی حالت کیا ہے۔ آپ حیرت انگیز طور پر پائیں گے کہ ہندوستان کا تقریباً ہر مسلمان یہ بتائے گا کہ ۱۹۴۷ء کے مقابلہ میں آج اس کی مالی حالت بہت زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح آپ ہندوستان کی مسجدوں، وہاں کے مدرسوں اور وہاں کے مسلم اداروں کا جائزہ لیں اور یہ معلوم کریں کہ ۱۹۴۷ء میں مادی اعتبار سے اُن کی حالت کیا تھی اور آج اُن کی حالت کیا ہے۔ آپ حیرت انگیز طور پر دیکھیں گے کہ وہاں کی ہر مسجد اور ہر مدرسہ اور ہر ادارہ بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ غیر مسلم قوموں کی نفرت میں جیتے ہیں۔ اس بنا پر آپ لوگ بغضك الشيئ يعمی و يصم کا مصداق بنے ہوئے ہیں۔ ایک حقیقت جو سورج کی طرح نمایاں ہے مگر وہ اسی کمزوری کی بنا پر آپ جیسے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتی۔ حتیٰ کہ اس کمزوری کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ آپ زمانہ کی ایک تبدیلی سے بالکل بے خبرہے۔ میں نے کہا کہ قدیم زمانہ اقتصادی اعتبار سے زراعت کا زمانہ تھا اور سیاسی اعتبار سے بادشاہت کا زمانہ۔ اس کے نتیجہ میں قدیم زمانہ کچھ لوگوں کی اجارہ داری (monopoly) کا زمانہ بنا ہوا تھا۔ اقتصادیات میں اُن لوگوں کی اجارہ داری تھی جن کے قبضہ میں زرعی زمین ہو۔ اور سیاست میں اُن لوگوں کی اجارہ داری تھی جن کے قبضہ میں بادشاہت کا تخت ہو۔ جدید انقلاب میں یہ دونوں اجارہ داریاں ٹوٹ گئیں۔ جدید صنعتی انقلاب نے اقتصادی ذرائع کو اصحاب زمین (land lords) کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues