سوئٹزر لینڈ کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۹
قبضے سے نکال کر اُن کو آخری حد تک عمومی بنا دیا۔ اس طرح جمہوری آزادی کے فکری انقلاب نے سیاسی اقتدار کو شاہی خاندان کے محدود دائرہ سے نکال کر سارے عوام کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس جدید اقتصادی انقلاب کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی قوم محرومی کا شکار ہو۔ محرومی کے واقعات زرعی دور کا نتیجہ تھے۔ جدید اقتصادی دور میں اس قسم کی محرومی ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ۱۹۴۷ کے بعد بہت زیادہ ترقی کی۔ مگر ہمارے مسلم رہنما ۱۹۴۷ کے پہلے والے زرعی نقشہ میں سوچتے ہیں۔ وہ جدید اقتصادی نقشہ میں سوچنے والے نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی بولی جدید حالات کے مطابق نہیں۔
ریزرویشن کے مطابق، دہلی سے روانگی کی تاریخ ۱۰ اکتوبر کی شام کو تھی۔ میں ایک قافلہ کی صورت میں روانہ ہوا۔ اس میں میرے سوا مزید ۵ افراد شامل تھے۔ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں، محمد خالد انصاری، رجت ملہوترا، پریا ملک، ڈاکٹر فریدہ خانم۔ ائر پورٹ پر ہم لوگ رات کو ۱۱ بجے پہنچے۔ جہاز کی روانگی رات کو ایک بجے تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرواز کے وقت کلنڈر بدل چکا تھا۔ شمسی کلنڈر میں رات کے بارہ بجے کے بعد اگلا دن شروع ہو جاتا ہے۔ مگر قمری کلنڈر میں غروب آفتاب بالفاظ دیگر طلوع قمر سے نیا دن شروع ہوتا ہے۔
دہلی سے سوئس ائیر کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ دہلی سے زیورک تک کے سفر کے لئے ایک ڈائرکٹ فلائٹ ہے جو ساڑھے آٹھ گھنٹہ میں پہنچتی ہے۔ دوران پرواز مختلف اخبارات اور پرچے دیکھے: ائر کمپنی کا ان فلائٹ میگزین سوئس میگزین (Swiss Magazine) کا شمارہ اکتوبر ۲۰۰۲ دیکھا۔
اس کے تمام مضامین بیک وقت دو زبانوں میں تھے۔ جرمن اور انگریزی۔ ایک مضمون میں سوئزر لینڈ کے نقشہ کے ساتھ ملک کے بارے میں مختلف قسم کی معلومات دی گئی تھیں۔ مثلاً اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپان کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کا سب سے زیادہ وسیع نظام سوئزرلینڈ میں ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ طویل کیبل ریلوے کا نظام سوئزرلینڈ میں ہے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues