سوئٹزر لینڈ کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۱
کر سکے کہ انسان کو نیند کیوں آتی ہے۔ نیند کے بارے میں نپولین بونا پارٹ (وفات ۱۸۲۱) نے کہا تھا کہ کیا ہی خوش کن چیز ہے۔ بستر میرے لیے ایک ایسی راحت کی چیز ہے جس کے بدلے میں دنیا بھر کے تخت کو لینا بھی پسند نہ کروں گا:
What a delightful thing rest is—The bed has become a place of luxury to me. I would not exchange it for all the thrones in the world. دہلی سے زیورک تک کی پوری پرواز نہایت ہموار تھی۔ زیورک ائیرپورٹ پر لینڈنگ بھی اسی طرح ہوئی کہ مسافروں کو اس کا پورا اندازہ بھی نہ ہوسکا۔ جہاز فضا میں ٹیک آف (take off) کرتا ہے اور اڑتے ہوئے ۸ کلومیٹر اور ۱۰ کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچ جاتا ہے اور پھر آہستگی کے ساتھ نیچے آکر وہ زمین پر اتر جاتا ہے۔ اس قسم کی باتوں کو لوگ ٹکنالوجی کا کارنامہ سمجھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ وآتاکم من كل ما سألتموه (ابراہیم ۳۴) کا کرشمہ ہے۔
زیورک ایئر پورٹ پر کانفرنس کے افراد مل گئے۔ یہاں سے بذریعہ کار ڈگ کے لئے روانگی ہوئی ۔ یہ تقریباً ایک گھنٹہ کا راستہ تھا۔ پورا راستہ ایک گل زار ماحول میں طے ہوا۔ ایک طرف مسلسل سر سبز پہاڑیاں نظر آتی تھیں اور دوسری طرف سلیقہ کے ساتھ بنی ہوئی بلڈنگوں کی قطاریں۔ روڈ نہایت ہموار تھی۔ کبھی کسی گاڑی نے اوور ٹیک (overtake) نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہر گاڑی اسی طرح اپنی لین(lane) میں چل رہی ہے جس طرح ستارے اپنے مدار میں چلتے ہیں۔ ڈرائیور ملک کے حالات کے بارے میں ہر بات اس طرح بتا تا جاتا تھا جیسے کہ وہ صرف ڈرائیور نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ وہ گائیڈ(driver cum guide) ہو۔
سوئزرلینڈ چونکہ ایک سیاحتی ملک ہے۔ اس لئے غالباً یہاں کار چلانے والے کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسافروں کو دوران سفر بھر پور معلومات دیتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues