The Pearls of Switzerland
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۲
معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم لوگوں کو مستقل طور پر یہاں رہنا ہو تو یہ ہمارے لیے کوئی اچھی بات نہ ہوگی۔ اس قسم کی پر راحت زندگی کی یہ لازمی قیمت دینی پڑے گی کہ ہمارے ذہن میں تھنکنگ پر اس رک جائے۔ ہم اعلیٰ انسانیت سے تنزل کر کے بس ایک قسم کے بے فکر حیوان بن کر رہ جائیں گے۔ زگ (Zug) سوئزرلینڈ کا ایک تاریخی شہر ہے۔ زُگ کے دو حصے ہیں ۔ قدیم شہر اور جدید شہر۔ زُگ یہاں کی ایک جھیل کا نام ہے۔ یہ شہر اس جھیل کے کنارے واقع ہے۔ اسی نسبت سے اس کا نام زُگ پڑ گیا۔ زُگ کا سب سے پہلا تاریخی حوالہ ۱۲۲۴ء میں ملتا ہے۔ یہ علاقہ شاہ روڈولف (Rudolf IV of Habsburg) نے ۱۲۷۳ میں خریدا تھا۔ وہ ۱۳۵۲ میں سوئس کنفیڈریشن (Swiss Confederation) میں شامل ہوا۔ ریفارمیشن تحریک کے زمانہ میں وہ رومن کیتھولک بنا رہا۔ یہاں بہت سی تاریخی عمارتیں پائی جاتی ہیں۔
ہمارے سوئٹ (401) کے اندر ایک چھوٹی سی لائبریری بھی تھی۔ اس میں عام موضوعات پر کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ ہم نے اپنے یہاں کی کچھ انگریزی کتابیں بھی اس کے اندر رکھ دیں۔ ان کتابوں میں ایک انٹرنیشنل میگزین تھا جس کا نام یہ تھا:
The Pearls of Switzerland
۲۸۸ صفحات کے اس میگزین میں ایک مضمون اس عنوان کا تھا:
Education-investing in the future.
اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں دنیا کی اقتصادیات تیزی سے عالمی بنتی جارہی ہے اور مارکیٹ باہمی طور پر جڑ گئی ہیں۔ سوئزرلینڈ جیسی چھوٹی اور کھلی اقتصادی مارکیٹ کے لیے گلوبلائزیشن اور مارکیٹ کا آپس میں مربوط ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں مستقل طور پر مسابقت
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues