Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

جرنلسٹ نے پڑیا کھول کر پاؤڈر کو چکھا اور کہا کہ مجھے یہ شک ہے کہ اس کے اندر ایسٹرائڈس (steroids) ملا ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ جرنلسٹ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ وہ فلاں مشہور انگریزی اخبار کا کرسپانڈنٹ ہے۔ اس کے بعد کتھا کار کافی سنجیدہ ہو گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اصل میں یہ ملہٹھی کا سفوف ہے۔ مذکورہ اخبار نویس نے یہ پڑیا مجھے دی اور میں نے اُس کو چکھا تو میرے اندازے کے مطابق، اُس کا ذائقہ بالکل ملہٹھی جیسا تھا۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اپنی اصلاح کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز خود احتسابی (self-criticism) ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ سلف کریٹیسزم کیا ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ حال میں میں ریڈیوسن رہا تھا۔ اس دوران اُس پر ایک فلم ایکٹر کا انٹرویو آنے لگا۔ انٹرویو ر نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی خاص واقعہ بتائیے۔ فلم ایکٹر نے کہا کہ ایک بار ممبئی میں شوٹنگ ہو رہی تھی۔ میں اُس میں ایک رول ادا کر رہا تھا۔ اچانک فلم ڈائریکٹر نے شوٹنگ بند کر دی۔ میں اُس کے پاس گیا اور کہا کہ آپ نے شوٹنگ کیوں بند کر دی۔ فلم ڈائریکٹر نے کہا کہ تمہارا رول مجھے کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ہے۔ اب فلم ایکٹر نے ایسا نہیں کیا کہ وہ ڈائرکٹر سے جھگڑنے لگے۔ اس کے بجائے وہ خاموشی کے ساتھ اپنے کمرہ میں چلا گیا۔ وہاں وہ آئینہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنے بارے میں غور کرنے لگا۔ آئینہ میں جب اُس نے اپنی صورت دیکھی تو اصل راز اُس کی سمجھ میں آ گیا۔ بات یہ تھی کہ اُس دن صبح کو وہ مشہور تاج محل سیلون میں گیا اور شاندار طور پر اپنے بال درست کرائے اور شیمپو لگایا۔ اس طرح وہ ایک جینٹلمین تو دکھائی دینے لگا مگر وہ اپنے فلمی رول کے لیے غیر موزوں ہو گیا۔ اس لیے کہ فلم میں وہ ایک ایسے آدمی کا رول ادا کر رہا تھا جو فطری طور پر ناقص العقل تھا۔ اُس کو محسوس ہوا کہ میرا موجودہ چہرہ ایک صاحب عقل آدمی کا چہرہ دکھائی دیتا ہے، نہ کہ ناقص العقل آدمی کا چہرہ۔

اس دریافت کے بعد اُس نے یہ کیا کہ ایک قینچی لی اور آئینہ دیکھے بغیر وائلڈ ہیر کٹ (wild haircut) کے انداز میں اپنے بال کو بے ترتیبی کے ساتھ ادھر ادھر سے کاٹ دیا اور پھر اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page