Al-Risala · August 2003 · page 14

Education-investing in the future.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۴

ضرورت ہے۔ جہاد اصلًا پر امن جدوجہد (الفرقان (۵۲) کا نام ہے۔ بعد کے کچھ سیاست پسند مسلمانوں نے جہاد کو مسلح عمل کے ہم معنی بنا دیا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ جہاد کو اُس کے اصل تصور کی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔ میں نے کہا کہ آپ کو چاہئے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق کریں۔ مسلمانوں کے قول یا عمل کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں بلکہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں جانچیں۔

۱۱ اکتوبر کی شام کا ڈنر لوسرن (Luzern) کے ہوٹل شووے ذرہاف (Shweizerhof)

میں تھا۔ زُگ سے بذریعہ کار ہم لوگوں کو لوسرن لے جایا گیا۔ وہاں ایک بڑے ہال میں لوگوں کو ڈنر دیا گیا۔ ڈنر سے پہلے موجودہ کانفرنس کے ناظم اعلیٰ مسٹر آندرے بیکوف نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مختلف ملکوں سے آنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ میرا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو ٹنشن کم ہو گیا ہے وہ مولانا کی پرامن کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس ڈنر کی تقریب کے خصوصی مہمان روس کے سابق صدر میخائیل گورباچوف تھے۔ وسیع ہال میں مختلف میزوں کے گرد تمام مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے جس میز پر بٹھایا گیا وہاں گورباچوف بھی بیٹھے تھے۔ میری کرسی گورباچوف کے دائیں طرف تھی اور ترجمان کی کرسی اُن کے بائیں طرف تھی۔ چنانچہ اس وقت گورباچوف کی گفتگو زیادہ مجھ سے ہی ہوئی۔

افغانستان پر سوویت روس کے حملہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ حملہ سوویت روس کی ایک غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو پڑوسی ملک سے صرف کو آپریشن چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ کو آپریشن اچھی چیز ہے مگر کو آپریشن ہمیشہ پرامن طریقہ پر ممکن ہوتا ہے نہ کہ مسلح طریقہ پر۔ اس سلسلہ میں مزید میں نے کہا کہ سوویت روس کی فوجوں کا افغانستان میں مسلح داخلہ افغانیوں کے لئے ایک سنگین چیلنج تھا۔ افغانیوں کا کلچر وار کلچر ہے۔ وہ مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ تشدد کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے روس کے مسلح اقدام کا جواب دوبارہ مسلح کارروائی سے دیا۔ اس میں کچھ اور اسباب افغانیوں کے حق میں تھے ۔ چنانچہ سخت نقصان کے بعد روس کو افغانستان سے واپس آنا پڑا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page