Al-Risala · August 2003 · page 15

Education-investing in the future.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۵

پھر اس مسئلے کا ذکر ہوا کہ موجودہ "ٹیرزم" میں زیادہ حصہ مسلمانوں کا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست ہے مگر یہ کچھ مسلمانوں کا فعل ہے۔ اس کا تعلق اسلام سے نہیں۔ اسلام مکمل طور پر ایک پر امن مذہب ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے قرآن کی کچھ آیتوں کے حوالے دیے ۔

کھانے کی میز پر بیٹھی ہوئی ایک عیسائی خاتون نے گورباچوف کی وفات یافتہ اہلیہ رئیسہ کا ذکر کیا۔ اس سلسلہ میں میں نے ان سے پوچھا کہ رئیسہ بظاہر ایک مسلم نام ہے۔ کیا آپ کی اہلیہ ایک مسلم خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں وہ آرتھوڈاکس چرچ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اپنی اہلیہ کے بارے میں انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ وہ ماسکو کی منجمد کر دینے والی سردی میں بھی صبح کے وقت باہر نکل کر دیر تک واک کرتی تھیں۔ اُن کے اس معمول میں کبھی فرق نہیں آیا۔

میز پر لوگوں کے سامنے شراب کا گلاس رکھا جا رہا تھا۔ ہوٹل کے آدمی سے میں نے کہا کہ مجھے پانی چاہئے ۔ اس پر گورباچوف سے شراب کے بارے میں گفتگو ہونے لگی ۔ انہوں نے شراب کے نقصانات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جب میں سوویت یونین کا صدر تھا تو میں نے کوشش کی کہ روسی شراب ووڈ کا (vodka) پر پابندی لگاؤں۔ مگر روسی عوام شراب کے اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ وہ اس اصلاح کو قبول نہ کر سکے۔

گورباچوف دیکھنے میں ایک بھاری بھرکم شخصیت نظر آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کی صحت بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیسیپٹیو (deceptive) ہے۔ یعنی مغالطہ آمیز ہے۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ انگریزی کم جانتے ہیں اس لئے پوری گفتگو ترجمان کے ذریعہ ہوئی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ کسی سوال کا فوراً جواب دیتے ہیں۔ غالباً سوچ کر جواب دینے کی انہیں عادت نہیں۔ اس کے مقابلہ میں میرا تجربہ ہے کہ چین کے لیڈر کسی سوال کا فوراً جواب نہیں دیتے۔ وہ پہلے سوچتے ہیں اور پھر جواب دیتے ہیں۔ غالباً روسی اور چینی کے مزاج کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ روس میں کمیونسٹ اقتدار ختم ہو گیا، جب کہ چین میں کمیونسٹ اقتدار ابھی تک قائم ہے۔ گورباچوف سوویت یونین کے آخری صدر تھے۔ انہوں نے سوویت روس میں پرستراینکا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page