Education-investing in the future.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۶
(سیاسی آزادی) چلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ اس کے برعکس چینی لیڈروں نے تدبر سے کام لیتے ہوئے یہ کیا کہ وقت کے تقاضوں کے ساتھ اس طرح ہم آہنگی کی کہ سیاسی انتظام اور اقتصادیات دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ انہوں نے اقتصادی آزادی دیتے ہوئے سیاسی جبر کو باقی رکھا۔ اس طرح انہوں نے چین میں کمیونسٹ اقتدار کو بچالیا۔ ۱۲ اکتوبر کی صبح ہوئی تو حسب معمول صبح سویرے میری نیند کھل گئی۔ کچھ دیر کے بعد دور سے چرچ کے گھنٹے کی آواز آئی۔ دہلی میں فجر کی اذان کے ذریعہ معلوم ہوتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے، یہاں چرچ کے گھنٹہ کی آواز سے صبح کا اندازہ ہوا۔ فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے کل کے سفرنامے کے اجزا لکھے۔ اس کے بعد ناشتہ اور ملاقات وغیرہ کی مصروفیات شروع ہوگئیں۔ ۱۲ اکتوبر کو کئی پروگرام تھے۔ پہلا پروگرام راؤنڈ ٹیبل میٹنگ کا تھا جو ساڑھے گیارہ بجے ژگ کی تاریخ عمارت گوشر سال (Gothischer Saal) سے شروع ہوا۔ اس اجتماع میں تقریباً ۵۰ افراد شریک ہوئے۔ یہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے تھے۔ گویا کہ عالمی ذہن وہاں اکٹھا ہو گیا تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا:
Nuclear Terrorism and Prospects of Nuclear Disarmament in the Modern World. اس اجتماع میں پہلے اس کے صدر مسٹر آندرے بیکوف نے ایک تمہیدی تقریر کی اور موضوع کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد سب سے پہلے مجھے بولنے کا موقع دیا گیا۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ نیوکلیئر ٹررزم اور عام ٹررزم دونوں کی نوعیت ایک ہے۔ اس لیے ہمیں دونوں کے حل کے لیے ایک ہی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔
Nuclear terrorism and non-nuclear terrorism both are same in nature. So we have to deal with both the problem by the same method, that is through sustainable disarmament. In case of nuclear bombs we have discovered a successful technology to extract the plutonium content from the nuclear war machine. Similar is the case with the terrorist. Here also we have to extract
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues