Al-Risala · August 2003 · page 17

Education-investing in the future.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۷

۱۲ اکتوبر کو ۶ بجے شام ژگ کے کسینو تھیٹر میں استقبالیہ پروگرام تھا۔ اس موقع پر چند تقریریں ہوئیں ۔ ان میں خاص تقریر آندرے بیکوف (Andrey Bykov) کی تھی جو اس ادارے کے چیرمین ہیں۔ ان کی مادری زبان روسی ہے۔ تاہم وہ انگریزی زبان میں بھی بخوبی قدرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے انگریزی میں بولتے ہوئے اپنے مشن کا تعارف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جو ہری بم کی صورت میں تاریخ کے سب سے زیادہ خطر ناک بم بننے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے چار بڑے ملکوں کے پاس ایٹم بموں کا تقریباً ۹۰ فیصد ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ملک ہیں — امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ چاروں ملک اپنی اکثریت کی بنا پر مسیحی ملک سمجھے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ساری دنیا میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ایٹم بموں کے اس ذخیرہ کو ختم کیا جائے ۔ ہم نے لمبی ریسرچ کے بعد ایک ایسی ٹیکنیک دریافت کی جس کے ذریعہ ایٹم بم کے اس حصہ کو نکال لیا جائے جو اس کا سب سے قیمتی اور اہم حصہ ہے، یعنی پلوٹونیم۔ اور پھر اس کو پر امن مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اب تک ہم 6500 بم سے پلوٹونیم کا حصہ نکال چکے ہیں اور امریکہ اس کو خرید کر بجلی پیدا کرنے کے لیے اسے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پیرنٹ باڈی (parent body) کے طور پر ڈیرگس پیس انٹرنیشنل (Demiurgus Peace International) قائم کیا گیا ہے۔ نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم اس کا ایک ذیلی حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے پچیس سال کے اندر ہم دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

میرا عام تجربہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کانفرنسوں میں جو لوگ آتے ہیں وہ شاندار زبان بولتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page