Education-investing in the future.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۸
اور ان کے ناموں کے ساتھ شاندار القاب ہوتے ہیں مگر وہ زیادہ تر غیر متعلق (irrelevant) باتیں کرتے ہیں۔ یہ راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن بھی اس معاملہ میں بہت زیادہ مختلف ثابت نہ ہوسکا۔ ایک شریک اجتماع سے میں نے اپنے اس احساس کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ تا ہم مقررین کی چند باتیں جو میں نے وہاں نوٹ کیں ان کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے مسٹر ڈیسمنڈ ٹوٹو نے موجودہ تاریک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا ایک ڈریمر ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح ڈریمر اور پرامید ہونا چاہئے:
God is a dreamer. We also ought to be dreamers. I hope you can dream too of a world without a war. We need to be idealists. اس بات کو مجھے کہنا ہو تو میں اس کو اس طرح کہوں گا کہ آج کی دنیا میں جو تشدد کلچر چل رہا ہے اس کا سبب لوگوں کے اندر پختہ شعور (maturity) کا نہ ہونا ہے۔ لوگ امن کی طاقت کو نہیں جانتے اس لیے وہ بہت جلد تشدد پر اتر آتے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ لوگوں کی شعوری نا پختگی کو ختم کیا جائے اور ان کو امن کے فائدے سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے بعد ہی موجودہ تشدد کلچر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ افلاس سے مایوسی پیدا ہوتی ہے اور مایوسی تشدد کو جنم دیتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ سب سے پہلے غریبی اور افلاس کو ختم کریں۔ اس کے بعد ہی دنیا میں پر امن سماج بن سکتا ہے:
Poverty breeds despair, and despair breeds violence. یہ بات الفاظ کے اعتبار سے خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بے وزن ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کم آمدنی اور زیادہ آمدنی کا فرق خود فطری قانون کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی کے ظلم کا نتیجہ۔ اس لئے اصل ضرورت یہ ہے کہ مواقع کار زیادہ سے زیادہ کھولے جائیں۔ اس کے بعد لوگ اپنے آپ جد و جہد کرنا شروع کر دیں گے۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے اندر خود انتقادیت (self-criticism) کا مزاج ہونا چاہئے۔ ہمیں صرف مذمت نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسباب کو دیکھنا چاہئے:
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues