Al-Risala · August 2003 · page 19

Education-investing in the future.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۱۹

یہ بات بذات خود درست ہے مگر اصل مسئلہ اسباب کا صحیح تعین ہے۔ اگر اسباب کا صحیح تعین نہ کیا جائے تو بڑی سے بڑی کوشش بھی اکارت ہو کر رہ جائے گی۔ اس کی ایک مثال کمیونزم ہے۔ مارکس نے اسباب کی جو نشاندہی کی تھی اس کے مطابق سو سال تک غیر معمولی جدوجہد کی گئی مگر نتیجہ مزید تباہی کی صورت میں نکلا اور اس کی وجہ یہی تھی کہ اسباب کی تشخیص درست نہ تھی۔ یوگوسلاویہ کی پرنس الزبتھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا کے مسائل کو ہم صرف خارجی کوشش سے دور نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں داخلی کوشش کرنی پڑے گی۔

اس قسم کی بات اکثر لوگ کہتے رہتے ہیں لیکن جب ان سے کہا جائے کہ اپنی بات کو زیادہ متعین (specific) انداز میں بتائیے تو میرا تجربہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کر پاتے۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ فیشن کے طور پر اس قسم کی بات کہہ دیتے ہیں لیکن اس معاملہ میں وہ اتنا زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتے کہ گہرائی میں اتر کر اس کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم اس زمین پر ایک مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں مگر ہم ایک برے مہمان ثابت ہوئے ہیں:

اس معاملہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان خدا کی اس زمین پر جانچ (test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ ”مہمان“ کا تصور آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کرتا۔ لیکن ”جانچ“ کا تصور جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ یقینی طور پر سخت محتاط ہو جائے گا، وہ ذمہ دارانہ زندگی کا طریقہ اختیار کرلے گا۔

امریکہ سے آئی ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون جو وہاں شوماخر انسٹی ٹیوٹ کی ڈائرکٹر ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت علاقائی بنیاد پر خود کفیل اقتصادی نظام

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page