Al-Risala · August 2003 · page 20

Peace is to try to defend statusquo.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۲۰

(self-sufficient regional economy) ہے۔ مگر یہ بات عملی حقائق کے مطابق نہیں۔ یہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ آج تیزی سے گلوبل اکانومی دنیا میں قائم ہورہی ہے۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ درست نظریہ ہے جو زمانہ کے حالات سے مطابقت رکھتا ہو۔ کوئی نظریہ خواہ بظاہر کتنا ہی خوبصورت ہو وہ زمانی تقاضوں کو نظر انداز کر کے قائم نہیں ہوسکتا۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں امن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امن کس لئے ہوتا ہے۔ امن کا مقصد یہ ہے کہ حالت موجودہ کو باقی رکھنے کی کوشش کرنا:

Peace is to try to defend statusquo.

امن کی اس تعریف میں ایک بات نہیں آئی ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کو ختم کر کے امن قائم کرنے کا مطلب وہی ہے جس کو وقت کا حصول (buy time) کہا جاتا ہے۔ یعنی معتدل ماحول قائم کر کے کام کا موقع حاصل کرنا۔

ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت پولیٹیکل لیڈرس مختلف ملکوں میں امن کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ مذہبی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ آئیں اور اس کام کو آگے بڑھائیں: Religious leaders should come forward and set off a spark to this new world of peace. یہ بات صحیح ہے کہ پولیٹیکل لیڈرس یا انٹلکچول لیڈرس امن کے نام پر آج کل کافی سرگرمی دکھارہے ہیں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق ، یہ بھی ان کی لیڈری کا ایک حصہ ہے۔ میں اس قسم کی بہت سی کانفرنسوں میں شریک ہوا ہوں ۔ میں نے پایا ہے کہ یہ قائدین امن کانفرنس ٹیبل پر تو خوبصورت الفاظ میں امن کی باتیں کرتے ہیں مگر اس کے بعد وہ اپنا بقیہ پورا وقت اس طرح تفریحی انداز میں گزارتے ہیں جیسے کہ امن ان کا کنسَرن (concern) ہی نہیں۔ مجھے یقین نہیں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کی شرکت کوئی واقعی نتیجہ پیدا کرسکتی ہے۔ امن کے قیام کے لیے سب سے پہلی شرط سنجیدگی ہے۔

رؤس کے سابق صدر میخائیل گوربا چوف نے روسی زبان میں تقریر کی جس کا ترجمہ انگریزی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page