Al-Risala · August 2003 · page 21

Peace is to try to defend statusquo.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۲۱

زبان میں کیا گیا ۔ ترجمہ کے مطابق ، ان کی کچھ باتیں یہ تھیں ۔

UN is a relic of the past. Developed nations used everything to their own advantage. We need governance of the world, not govern the world. We need a new world order— more just, more humane. یہ ساری باتیں خود مقرر پر صادق آ رہی تھیں۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر تھے اور اسی کی بنیاد پر سوویت یونین کے صدر بنے ۔ جو کچھ انہوں نے اپنی تقریر میں دوسروں کے بارے میں کہا وہ سب خود اُن کے اوپر اور ان کے سیاسی عقیدے کے اوپر صادق آتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ انسان اپنی ناکامی کا اعتراف نہیں کرتا۔ مگر وہ دوسروں سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس کو ناقد کا کریڈٹ عطا کریں۔ مسٹر آندرے بیکوف (Andrey Bykov) نے کسی قدر مفصل تقریر کی ۔ ان کی تقریر کے کچھ جملے یہ تھے دنیا میں دہشت گردی وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ کسی طرح ایک نیا نظام بنایا جائے جس میں جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کیا جاسکے: There prevails an epidemic terrorist situation in the world. How to create a new system of nuclear control. انہوں نے مزید بتایا کہ ایٹم بموں کا جو ذخیرہ اس وقت دنیا میں موجود ہے اس کا ۹۰ فیصد حصہ چار قوموں کے پاس ہے— امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس۔ یہ چاروں قومیں اکثریت کے اعتبار سے مسیحی قومیں ہیں۔ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ کے بعد ہم لوگ قریب کے ایک گیسٹ ہاؤس میں لے جائے گئے۔ اس کا نام تھا راتوس کلر (Rathauskeller)۔ یہاں کانفرنس کے شرکاء کے لیے لنچ کا انتظام تھا۔ لنچ کے دوران مختلف لوگوں سے تبادلہ خیال جاری رہا۔ کھانے کے دوران ہمارے ایک ساتھی نے ویٹر سے بریڈ (bread) کی فرمائش کی۔ ویٹر کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ کافی دیر کے بعد ویٹر نے کہا کہ اچھا شاید آپ بروڈ چاہتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ تلفظ کے فرق کی بنا پر ویٹر کو ہماری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی جس چیز کو ہم بریڈ کہتے ہیں اُس کو وہ لوگ بروڈ بولتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page