Al-Risala · August 2003 · page 22

Peace is to try to defend statusquo.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۲۲

۱۲ اکتوبر کی شام کو شرکاء اجتماع ہوٹل کسینو کے تھیٹر ہال میں اکٹھا ہوئے۔ یہاں روسی نیشنل آرکسٹرا کا ایک پیانو کانسرٹ (Piano Concert) تھا۔ یہ غیر معمولی طور پر ایک بڑا پروگرام تھا جس میں تقریباً ۱۰۰ آرٹسٹوں نے حصہ لیا۔ اس کو پروفیسر ولادمیر (Vladimir Spivakov) نے کنڈکٹ کیا۔ ولادمیر اپنے کام کو اتنی زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ کر رہے تھے کہ ان کا چہرہ واضح طور پر پسینہ سے شرابور ہو گیا۔ حاضرین اتنا زیادہ خوش تھے کہ بار بار تالیوں کے ذریعہ خراج تحسین ادا کر رہے تھے۔ ہر آئٹم جب ختم ہوتا تو پروفیسر ولادمیر اسٹیج کے اوپر حاضرین کی طرف اپنا چہرہ کرکے کھڑے ہوتے اور رکوع کی طرح جھک کر حاضرین کا شکریہ ادا کرتے۔ ایک شخص نے پروفیسر ولادمیر سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے فخر آمیز خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

آرکسٹرا کے اس شو کے بعد دوسرا پروگرام تھا جو اس کانفرنس کا سب سے اہم جز تھا۔ وہ تھا دنیا بھر کے سات منتخب لوگوں کو پیس کا ایوارڈ دینا۔ یہ پروگرام ژگ کے کسینو تھیٹر میں تھا۔ یہ ایک محل نما شاندار ہال تھا جس میں تمام لوگ اکٹھا ہوئے۔

اس کانفرنس کا خاص مقصد دنیا بھر کے سات منتخب افراد کو پیس انٹرنیشنل کی طرف سے انٹرنیشنل پیس ایوارڈ دینا تھا۔ یہ تقریب ۱۲ اکتوبر کو شام کے سات بجے ژگ کے شاندار کسینو تھیٹر میں ہوئی۔ مجھے اسی ایوارڈ کے لیے یہاں بلایا گیا تھا۔ میرے علاوہ چند اور لوگوں کو ایوارڈ دیا گیا، ان میں روس کے صدر مسٹر ولادیمیر پٹن اور افریقہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ ڈسمانڈ ٹوٹو شامل ہیں۔ اس پروگرام کے لیے کسینو تھیٹر کو خصوصی طور پر سجایا گیا تھا۔ خوبصورت اسٹیج پر سات کرسیاں ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں ۔ ان کرسیوں پر ان لوگوں کو بیٹھنا تھا جن کو ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ہر کرسی کے اوپر اس ملک کا جھنڈا لہرارہا تھا جس سے صاحب ایوارڈ کا تعلق تھا۔ میری کرسی کے اوپر انڈیا کا جھنڈا لگایا گیا تھا۔ اس طرح ہر جگہ دوسرے چھ جھنڈوں کے ساتھ انڈیا کا جھنڈا ابھی لہرایا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page