Al-Risala · August 2003 · page 25

A Short History of Switzerland.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۲۵

جارج رچرڈ پوٹر (George Richard Potter) نے لکھا ہے کہ دسویں صدی عیسوی میں مسلمان سوئزرلینڈ کے علاقہ میں داخل ہو گئے۔ مگر وہ اپنے مرکز سے اتنا زیادہ دور تھے کہ وہ ایک وقتی خلل پیدا کرنے کے سوا وہاں کچھ اور نہ کر سکے:

In the 10th century Muslims reached Swiss territory, but they were too far from their base to have any thing more than nuisance value. (17/879)

پروفیسر جارج رچرڈ پوٹر یو نیورسٹی آف شیفیلڈ میں قرون وسطی کی تاریخ کے اُستاد تھے۔ ۱۹۸۱ میں اُن کی وفات ہوئی۔ وہ سوئزرلینڈ کی تاریخ کے بارے میں ایک کتاب کے شریک مصنف (co-author) تھے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:

A Short History of Switzerland.

پچھلے کئی سو سال کے درمیان سوئزرلینڈ مسلسل جنگ اور نزاع کی سرزمین تھا۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کا باہمی ٹکراؤ، روس اور فرانس اور جرمنی سے جنگ، وغیرہ۔ مگر سوئزرلینڈ کی قومی پالیسی ہمیشہ دو اصولوں پر مبنی تھی ۔ امن اور غیر جانبداری۔ اسی پالیسی کا یہ نتیجہ ہے کہ سوئزرلینڈ آج دنیا کا سب سے زیادہ پر امن اور خوش حال ملک بن گیا ہے، حالاں کہ سوئزرلینڈ کے پاس قدرتی وسائل کے اعتبار سے پانی کے سوا کوئی اور قابلِ ذکر چیز موجود نہیں۔

سوئزرلینڈ کے تعمیری مزاج کا اندازہ ایک مثال سے ہوگا۔ ۱۸۴۸ میں سوئزرلینڈ میں ایک فیڈرل اسٹیٹ بنی۔ اس کے لیے دو چیمبر (ایوان) کی گورنمنٹ بنی۔ اس کے لیے پریزیڈنٹ کے سالانہ انتخاب کا جو اصول مقرر کیا گیا وہ تھا، برابر والوں میں سے پہلا: The president, elected annually was simply first among equals. (17/886)

۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ چھڑی تو یورپی علاقوں کے بہت سے سیاسی پناہ گزیں اپنے ملکوں سے بھاگ کر سوئزرلینڈ آگئے۔ ان سیاسی پناہ گزینوں میں سے ایک مشہور کمیونسٹ ولا دیمیر لینن تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page