Link rivers in 10 years: SC
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۲
انہوں نے بعض آیتیں پیش کیں ۔ میں نے کہا کہ ان آیتوں میں صراحت کے ساتھ تثلیث کا عقیدہ مذکور نہیں اور کسی مذہب کا بنیادی عقیدہ صراحت کے ساتھ اُس کی مقدس کتاب سے نکلنا چاہئے، نہ کہ خود ساختہ تاویل کے ذریعہ ۔ آخر کار وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے خاموشی کے ساتھ چلے گئے ۔ جدید طرز کی گھڑیوں کے سلسلہ میں سوئزر لینڈ کو بہت زیادہ شہرت ملی ہے۔ اس سے پہلے قرون وسطی میں ترکی میں روایتی گھڑیاں بنتی تھیں۔ مسلم کاریگر انہیں بناتے تھے اور باہر کے ملکوں میں انہیں مارکیٹ کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد یورپ میں اسپرنگ دار گھڑیاں بننے لگیں۔ سوئزر لینڈ اس قسم کی گھڑیوں کی صنعت کا خاص مرکز تھا۔ ترکی (استنبول) کے کاریگر اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہ سکے : (After the) steady improvement in pendulum-clocks and spring-driven watches in Europe, with which the Istunbul-based clock makers were not able to keep pace. By the early years of the eighteenth century, watch making in Turkey virtually came to an end. (MDE/233)
موجود زمانہ میں مسلم قوموں کے ساتھ ہر شعبہ میں یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ روایتی صنعت کے دور میں دمشق اور بغداد اور قرطبہ اور استنبول جیسے مسلم شہر مرکزی حیثیت حاصل کئے ہوئے تھے۔ مگر جب سائنٹفک صنعت کا دور آیا تو مسلمان اُس میں پچھڑ گئے۔ وہ جدید دور کا ساتھ نہ دے سکے۔ یہ پسماندگی اتنی بڑھی کہ وہ فکری امور تک جا پہنچی۔ مثلاً موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور دانشور تشدد کو جہاد بتا کر اُسے گلوریفائی کرنے میں مشغول ہیں جب کہ جدید دنیا فکری اور نظری حیثیت سے تشدد کو دورِ قدیم کی چیز سمجھ کر ترک کر چکی ہے۔
سوئزرلینڈ میں مسلمان بہت کم ہیں۔ تاہم یہاں کے شہروں میں مسلمانوں کی ایک تعداد موجودہ ہے۔ یہ مسلمان زیادہ تر عرب ملکوں سے یا ترکی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سوئزرلینڈ کے شہروں میں بہت سی مسجدیں ہیں۔ میں سفر کر کے چند مقامات پر پہنچا تا کہ یہاں کی مسجدوں کو دیکھوں مگر یہ مسجدیں زیادہ تر گھروں کے ایک حصہ کو عبادت کے مخصوص کر کے بنائی گئی تھیں۔ سوئزرلینڈ میں بعض مستقل مسجدیں بھی ہیں مگر میں اُن کو دیکھ نہ سکا ۔ ان مسجدوں سے وابستہ کچھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues