Al-Risala · August 2003 · page 33

İNSAN VE UYUM

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۳

مسلمانوں سے ملاقات ہوئی مگر اُن سے کوئی قابل ذکر بات نہ ہوس۔ کیوں کہ وہ نہ انگریزی زبان جانتے تھے اور نہ عربی زبان۔ بعض ایسے افراد ملے جو ٹوٹی پھوٹی عربی بول سکتے تھے۔ اُن سے کچھ معمولی قسم کی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ سوئزر لینڈ میں مسلمانوں کے لیے دینی اعتبار سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوئزر لینڈ میں جو "مسجدیں" دیکھنے میں آئیں اُن میں سے ایک وہ مسجد تھی جس کو مقامی ترکوں نے قائم کیا ہے۔ اس مسجد میں چند ترک ملے۔ وہ غالباً لیبر کلاس کے لوگ تھے۔ وہ صرف ترکی زبان بول سکتے تھے اس لیے اُن سے کوئی گفتگو نہ ہوسکی۔ البتہ انہوں نے ۱۸ صفحہ کا ایک پمفلٹ دیا جو ترکی زبان میں تھا۔ اس کی چھپائی معمولی تھی۔ اس پمفلٹ کے آخر میں اُس کا نیو ر کا پتہ چھپا ہوا تھا۔ اس تعارف نامہ کے صفحہ اول پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد اُس کا عربی نام اس طرح درج تھا: الجمعية العليا لاتحاد الجمعيات الاسلامية فى سويسرا۔ اُس کے نیچے غالباً ترکی کی زبان میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:

İNSAN VE UYUM

مغرب میں مقیم ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ میڈیا مسلمانوں کے معاملہ میں ہمیشہ تعصب برتتا ہے۔ انہوں نے میڈیا کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ یہودی جب فلسطینیوں کے خلاف متشددانہ حملہ کرتے ہیں تو صرف یہ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلیوں نے ایسا اور ایسا کیا۔ مگر ایسے موقع پر ایسا نہیں کہا جاتا کہ یہودیوں نے ایسا کیا۔ اس نے کہا کہ یہی معاملہ آئر لینڈ کی آئی آر اے (IRA) کا ہے۔ ان کے اس قسم کے عمل کو عیسائیوں کا عمل نہیں بتایا جاتا مگر مسلمان جب کسی متشددانہ عمل میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس وقت مغربی میڈیا اس کو اسلام کی طرف منسوب کر کے مسلمانوں کے مذہب کی مذمت کرنے لگتا ہے:

Why is it that when the Jews commit a terrorist act against the Palestinians it is only said that the Israelis have done this or that, but it is not said that the Jews did it. The same is of the IRA in

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page