Al-Risala · August 2003 · page 34

İNSAN VE UYUM

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۴

مغربی میڈیا کے خلاف یہ اعتراض غلط ہے۔ رپورٹنگ کا مذکورہ فرق ایک فطری فرق ہے۔ اسرائیل اور آئرلینڈ کے لوگ جو تشد دکرتے بیس وہ قومی نام پر کرتے بیس اس لیے وہ ان کی قوم کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مسلم ”مجاہدین“ اپنا تشدد اسلام اور اسلامی جہاد کے نام پر کرتے ہیں اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ اُن کا تشدد اسلام کے نام سے رپورٹ کیا جائے۔ میرا یہ سفر ایک ہفتہ کا سفر تھا۔ اس سفر میں میں نے انڈیا سے لے کر یورپ تک ہر قسم کے مناظر دیکھے۔ مگر ہر جگہ صرف مادی سرگرمیاں نظر آئیں۔ میں نے سوچا کہ انسان کی دو ضرورتیں ہیں، مادی ضرورتیں (material needs) اور روحانی ضرورتیں (spiritual needs)۔ موجودہ دنیا میں تمام انسانی سرگرمیاں مادی ضرورتوں کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ روحانی ضرورتوں کی بنیاد پر حقیقی معنوں میں کوئی سرگرمی کہیں نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ مادی اعتبار سے ساری دنیا میں سامانِ حیات کی فراوانی ہے۔ مگر روحانی اعتبار سے آج کا انسان فاقہ کی حالت سے دوچار ہو رہا ہے۔ دہلی میں میں محدود طور پر اسپرچول کونسلنگ کا کام کرتا ہوں۔ اس میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی شریک ہوتے ہیں۔ ایک ہندو خاتون دو دن میرے ”روحانی کلاس“ میں شریک ہوئیں۔ وہ اُس سے کافی متاثر ہوئیں وہ پچھلے ہیں سال سے روزانہ بلاناغہ مندر جایا کرتی تھیں۔ میں نے کہا کہ ہیں سال میں سات ہزار سے زیادہ دن ہوتے ہیں۔ آپ سات ہزار دن تک مندروں میں گئیں اور ہماری کلاس میں صرف دو دن آئیں۔ آپ کے بیان کے مطابق، آپ کو ہماری کلاس میں روحانی غذا ملی۔ اب بتائیے کہ سات ہزار دن تک مندروں میں جانے سے آپ کو وہاں کتنی روحانی غذا ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بھی نہیں۔ مندر میں تو صرف کچھ ظاہری قسم کے رسوم (rituals) ادا کیے جاتے ہیں۔ وہاں روحانی غذا یا فکری ترقی ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

میں نے کہا کہ یہی حال آج کل ہر مذہبی مقام کا ہے۔ مثلاً مسلمانوں کی درگاہوں میں بھی اسی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page