İNSAN VE UYUM
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۵
طرح صرف کچھ بے روح قسم کے مراسم ادا کیے جاتے ہیں۔ وہاں جانے والوں کو کسی قسم کی فکری اور روحانی ترقی نہیں ملتی۔ پھر میں نے کہا کہ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ وہی سرگرمی حقیقی معنوں میں مذہبی سرگرمی ہے، جس سے لوگوں کو روحانی خوراک ملے، جس سے لوگوں کو ذہنی ترقی ملتی ہو۔ بے روح رسوم و آداب کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں۔
۱۳ اکتوبر کو ملاقاتوں کے علاوہ ایک خاص پروگرام ”بوٹ پر لنچ“ کا تھا۔ ہم لوگ پارک ہوٹل سے کار کے ذریعہ سوئزرلینڈ کے ایک اور شہر لوسرن (Luzern) لے جائے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑی جھیل ہے جس کا نام لوسرن ہے۔ اس جھیل میں لوگ بوٹنگ کیا کرتے ہیں۔ ہمیں ایک جدید طرز کی بوٹ پر لے جایا گیا۔ اس دو منزلہ بوٹ میں کرسیوں پر بیٹھنے کا انتظام تھا۔ یہ بوٹ جھیل میں چل رہی تھی مگر اس کی رفتار کم رکھی گئی تھی تاکہ چاروں طرف کے خوبصورت مناظر کو لوگ دیکھ سکیں ۔ بوٹ اتنے پرسکون طور پر چل رہی تھی کہ اس پر آسانی کے ساتھ لکھنے کا کام کیا جا سکتا تھا۔ میں نے اپنے سفر نامہ کے کچھ اجزاء اسی بوٹ پر تیار کئے ۔ بوٹ جھیل کے صاف شفاف پانی پر تیر رہی تھی ۔ چاروں طرف سرسبز درختوں کے مناظر تھے۔ یہ ماحول بے حد خوبصورت تھا۔ اسی قسم کے خوبصورت مناظر کو کشمیر میں دیکھ کر بابر نے کہا تھا:
اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است مگر میں نے جب سوئزرلینڈ میں فطرت کے مناظر دیکھے تو میرے دل نے کہا کہ خدا نے یہ خوبصورت مناظر دنیا میں اس لیے رکھے ہیں تاکہ انسان اس کے ذریعہ جنت کا ابتدائی تعارف حاصل کر سکے۔ دنیا کے یہ مناظر اُخروی جنت کا شوق پیدا کرنے کے لیے ہیں نہ کہ اس لیے کہ انہی کو جنت سمجھ کر اُن کے اندر اپنی خوشیوں کی دنیا بنانے کی کوشش کی جائے۔
بوٹ کے اوپر کرسیوں کے ساتھ میزیں بچھی ہوئی تھیں۔ لوگوں کو انہی میزوں پر لنچ دیا گیا ۔ جدید طرز کی خوبصورت بوٹ پانی پر آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور لوگ اپنے کھانے پینے میں مشغول تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues