Al-Risala · August 2003 · page 36

İNSAN VE UYUM

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۶

بوٹ کے اوپر ایک سبق آموز منظر یہ دکھائی دیا کہ ہر مرد و عورت بار بار ہنس رہے تھے اور قہقہہ لگا رہے تھے۔ میں خود تو کسی قدر فاصلہ پر ایک الگ کرس پر خاموشی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب جو اُن لوگوں کے ساتھ شریک تھے، اُن سے میں نے پوچھا کہ وہ کون سی بات تھی جس پر یہ لوگ اتنا زیادہ ہنس رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر بات میں ایک تفریحی جملہ بول دیتے ہیں جس کو سن کر لوگ ہنس پڑتے ہیں۔ مثلاً اس بوٹ پر شطرنج (Chess) کے ایک مشہور کھلاڑی بھی موجود تھے۔ ایک صاحب نے ان کے ساتھ شطرنج کھیلا اور ہار گئے۔ اس پر ان کے ایک ساتھی نے لائٹ موڈ میں انہیں خطاب کرتے ہوئے کہا: میرے ہارنے والے دوست (My defeated friend)۔ یہ سن کر لوگ ہنس پڑے۔

یہ پڑھے لکھے لوگوں کی تفریح کا طریقہ ہے۔ وہ ہر بات میں ایک چھوٹا جملہ شامل کر دیتے ہیں جس کو سن کر لوگ ہنس پڑتے ہیں۔ یہ تفریح کلچر موجودہ زمانہ میں بہت عام ہو چکا ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ اس غیر سنجیدہ انداز نے تعلیم یافتہ لوگوں کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ لوگ اپنے مخصوص پروفیشن میں مادی تقاضے کی بنا پر تو ضرور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہاں وہ اپنے کو سنجیدہ انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کا ہر تعلیم یافتہ اپنے پروفیشن کے محدود دائرہ میں تو ایک صاحب علم انسان نظر آتا ہے مگر پروفیشن کے باہر دوسرے شعبوں کے اعتبار سے اس کی سوچ مقابلہً سطحی ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دوسرے پہلوؤں میں اس کا ذہنی ارتقاء ہی نہیں ہوتا۔ میں اپنی زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملا ہوں۔ ان کی تقریریں سنی ہیں اور تحریریں پڑھی ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ موجودہ زمانہ کے بیشتر لوگ دہرا شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایک پہلو سے وہ آخری حد تک مکمل ہوتے ہیں اور دوسرے پہلو سے آخری حد تک ناقص۔ ایک پہلو وہ ہے جس سے ان کا دنیوی انٹرسٹ وابستہ ہو۔ اس معاملہ میں وہ آخری حد تک سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں وہ پوری دقت نظر کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اتنے ایکسپرٹ بن جاتے ہیں کہ وہ اس موضوع پر ماہرانہ انداز میں گفتگو کر سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page