There is no one like you in the world.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۷
اس کے بعد زندگی کے وہ دوسرے پہلو ہیں جن سے براہِ راست طور پر ان کا مادی انٹرسٹ وابستہ نہیں ۔ ان دوسرے موضوعات کو وہ ہمیشہ سرسری انداز میں لیتے ہیں ۔ وہ ان کے بارے میں زیادہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دوسرے موضوعات پر ان کے خیالات واضح نہیں ہوتے ۔ ان دوسرے موضوعات پر ان کا دماغ کنفیوژن کا ایک جنگل ہوتا ہے ۔ ان دوسرے موضوعات پر وہ یا تو طفلانہ باتیں کرتے ہیں یا ایسی الجھی ہوئی باتیں جس سے سننے والے کو کچھ بھی حاصل نہ ہو ۔ اس معاملہ کا مزید تباہ کن پہلو یہ ہے کہ یہ تعلیم یافتہ افراد اپنی مذکورہ روش کی بنا پر اپنے مخصوص فن کو بخوبی طور پر جانتے ہیں اور ان پر ماہرانہ انداز میں کلام کر سکتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد (false sense of confidence) پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس جھوٹے اعتماد کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان کی ملاقات کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جو دوسرے موضوعات کے معاملہ میں ان کی علمی اور فکری کمی کی تلافی کر سکے تو وہ اپنے فرضی اعتماد کی بنا پر اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دے پاتے ۔ وہ اس کو ناقابلِ لحاظ سمجھ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ اس کا یہ تباہ کن نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے اندر سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے ۔ وہ ایک قسم کے جہلِ مرکب کے مریض بن کر رہ جاتے ہیں ۔
بوٹ کے اس سفر میں ہمارے ساتھ لوسرن کے ایک ریٹائرڈ جنرل بھی تھے جن کا نام جنرل سرمان (Zimmermann) تھا۔ بوٹ سے اترنے کے بعد جھیل کے ساحل پر ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو جانتا ہوں اور میں نے آپ کو پڑھا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ دنیا میں اپنے قسم کے ایک ہی انسان ہیں:
There is no one like you in the world.
اسی دن شام کو برگنٹا ک ہوٹل (Burgenstoc Hotel) میں ان سے ملاقات ہوئی۔ وہاں بھی انہوں نے سب کے سامنے اس جملہ کو دہرایا۔ وہ اندر سے بیکوف مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ ۱۳ اکتوبر کی شام کو ایک ملاقات میں ڈاکٹر والٹر ویبر (Walter Weber) نے کچھ سوالات مسلم سیاست کے بارے میں کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues