Politics is the art of the possible.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۰
خیال ہوا۔ وہ نہایت ذہین آدمی ہیں۔ خود بھی گہری باتیں کرتے ہیں اور دوسرے کی بات کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ وہ میری باتوں کو اپنے جیسی کمپیوٹر پر نوٹ کرتے رہے۔ انہوں نے ایک خاص بات یہ کہی کہ یروشلم کے ایک چرچ میں سال کے ایک دن ایک خاص تاریخ اور ایک خاص وقت میں آسمان سے روشنی آتی ہے۔ وہ چرچ کی چھت سے داخل ہو کر آتی ہے اور پورے ماحول کوروشن کر دیتی ہے۔ آندرے بیکوف نے بتایا کہ وہ اس مقدس روشنی کو دیکھنے کے لیے ہر سال یروشلم جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس کی ویڈیو فلم بھی بنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ روشنی مسیح کی طرف سے آتی ہے۔ میری واپسی کے بعد انہوں نے ماسکو سے ٹیلی فون کر کے بتایا کہ اس سال یہ روشنی ایسٹر کے دن ۱۲ اپریل ۲۰۰۳ کو ظاہر ہوگی۔
اس قسم کے طلسماتی عقیدے ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ لوگ ان کا تجزیہ نہیں کرتے اس لیے ان کے بارے میں ان کے یقین میں کوئی فرق نہیں آتا۔ مثلاً مذکورہ مسیحی روشنی پر غور کرتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ مسیح کے بعد چرچ نے ان کے اصل مذہب کو بدل ڈالا۔ پھر مسیح نے اصل مسیحیت کو انسان کے سامنے دوبارہ واضح کیوں نہیں کیا۔ حتیٰ کہ جس چرچ نے ان کے مذہب کو بدلا تھا اسی چرچ میں ہر سال مقدس روشنی بھیج کر وہ اس کو مستند بنانے(authentication) کا کام کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ روشنی، خواہ وہ جو بھی ہو، مگر وہ مسیحی روشنی ہرگز نہیں ہو سکتی۔ یہاں معلوم ہوا کہ سوئزرلینڈ میں ایک قانون کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ یہاں کے ۹۵ فیصد سے زیادہ گھروں میں اٹمک بنکر (Bunker) موجود ہیں۔ وہ اس لیے بنائے گئے ہیں تا کہ اگر کبھی ایٹمی حملہ ہو تو لوگ ان بنکروں میں پناہ لے کر اپنے آپ کو اس کی زد سے بچا سکیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ سوئزرلینڈ میں عام طور پر خدا لو گوں کا کُنسرن نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو ہر چیز خدا کے بغیر ملی ہوئی ہے، پھر ہمیں خدا کی کیا ضرورت۔ شیطان نے یہ کیسا عجیب مغالطہ لوگوں کے دماغوں میں ڈال دیا ہے۔ سوئزرلینڈ کے لوگوں کو جھیل سے لے کر موٹر کار تک جو کچھ ملا ہوا ہے وہ سب مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہے۔ خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے ذریعہ ہی انہوں نے اپنی موجودہ پر راحت زندگی کی بنیاد ڈالی ہے۔
الروالة 40 اگست 2003
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues