Al-Risala · August 2003 · page 41

Politics is the art of the possible.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۱

تعمیر کی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ نعمت کو لے رہے ہیں مگر وہ منعم کا اعتراف نہیں کرتے۔ یہاں کویت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام علی حسن ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ عربوں میں آج کل جو اسلام ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ مثلاً اگر آپ ایک عرب سے پوچھیں کہ آج موسم کیسا ہے تو وہ ہر بات میں بار بار بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ اور سبحان اللہ بولے گا اور پھر جواب دے گا۔ یہ ان کا تکیہ کلام ہے، وہ کسی اسلامی اسپرٹ کا اظہار نہیں۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں میں جو اسلام ہے وہ دین کے طور پر نہیں ہے بلکہ وہ ایک کلچر کے طور پر ہے، جیسا کہ دوسروں میں ہے۔ آج کل ہر مذہبی گروہ میں بظاہر مذہبی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ کلچرل سرگرمیاں ہیں، نہ کہ دینی سرگرمیاں۔

۱۴ اکتوبر کی شام کو ایک مجلس میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس مجلس میں آندرے بیکوف اور پرنس الزبتھ کے ساتھ دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔ میرے ایک ہندوستانی ساتھی نے بعد کو بتایا کہ آپ ڈھائی گھنٹہ تک مسلسل انگریزی میں بولتے رہے اور میں حیرانی سے سن رہا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی عجیب نعمت ہے کہ آپ ایک مولوی ہوتے ہوئے اتنے وضوح کے ساتھ انگریزی دانوں کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کلام کر رہے ہیں۔

اس گفتگو میں دوسری باتوں کے ساتھ میں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ "ٹّرزم" کے خلاف بعض مغربی ملک جو فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں اس سے ٹّرزم ختم ہونے والا نہیں۔ موجودہ ٹّرزم گن ورسز گن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ گن ورسز آئیڈیالوجی کا مسئلہ ہے۔ لوگوں کو جاننا چاہئے کہ کچھ نام نہاد ٹّررسٹ لیڈروں کو ہلاک کر کے یا ٹّررسٹ مراکز کے نام پر کچھ بلڈنگوں کو تباہ کر کے ٹّرزم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنے ٹّرزم کے جواز کے لیے ایک ایسا نظریہ دریافت کر لیا ہے جس پر انہیں کامل یقین ہے۔ حتی کہ خودکش بمباری کو وہ شہادت سمجھتے ہیں۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں اگر وہ ماراے گئے تو وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ آپ فوجی طاقت کے ذریعہ کسی کے جسم کو مار سکتے ہیں مگر فوجی طاقت کے ذریعہ اسپرٹ کو مار نہیں جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page