Politics is the art of the possible.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۲
میں نے کہا کہ اگر آپ دنیا سے تمام ایٹم بموں کو ختم کر دیں تب بھی ٹرزم ختم نہ ہوگا۔ کیوں کہ ٹرزم مائنڈ میں ہے، نہ کہ ہتھیار کے ذخیروں میں۔ آپ کو اپنے موجودہ پروگرام کے ساتھ ایک نظریاتی جدوجہد شروع کرنی ہوگی :
۱۴ اکتوبر کی شام کی یہ مجلس غالباً میرے اس پورے سفر کی سب سے اہم مجلس تھی۔ اس مجلس میں ایک ممتاز مغربی شخص بھی شریک تھے جو لاس اینجلس میں رہتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ واشنگٹن کی امریکی انتظامیہ (Administration) سے اُن کے براہ راست تعلقات ہیں۔ مجلس میں اُن کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے فلسطین کے تحت عرب۔ اسرائیل مسئلہ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق، امریکی ذمہ دار فلسطین کے مسئلہ کی گہرائی کو ابھی تک سمجھ نہیں سکے ہیں۔ اس لیے بے شمار طاقت خرچ کرنے کے باوجود وہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ امریکی لوگ حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر انہیں صحیح بات پہنچائی جائے تو وہ ضرور اُس پر غور کریں گے۔
میں نے کہا کہ آپ امریکی ذمہ داروں کو بتائیے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعہ مغربی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ امریکا مغربی ایشیا میں اپنی پالیسی کو بدلے۔ اب تک وہ یک طرفہ طور پر پرو اسرائیل پالیسی پر قائم رہا ہے۔ اب وہ اپنی اس پالیسی کو بدل کر اس معاملہ میں حکیمانہ فارمولے کو اختیار کرے جس کو میں بھی جیتا تم بھی جیتے(win-win formula) کہا جاتا ہے۔ مثلاً یروشلم کے معاملہ میں وہ اسرائیل کو ایک شہر دو انتظامیہ (one city, two administration) کے اصول پر راضی کرے۔ اس کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس اصول کے تحت یروشلم کے مشرقی حصہ کو عربوں کے حوالہ کر دیا جائے اور یروشلم کا مغربی حصہ اسرائیل کے قبضہ میں رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues