Politics is the art of the possible.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۳
۱۴ اکتبر کی شام کو ڈنر پر پرنس ایلزبیتھ سے گفتگو ہوئی۔ اُن کی زندگی میں کئی حادثے پیش آئے۔ بادشاہت ختم ہوگئی۔ شوہر سے طلاق ہو گیا۔ معاشی سہولتیں کم ہو گئیں۔ ان محرومیوں کے بعد وہ سکون کی تلاش میں نکلیں۔ اُن کی ملاقات ایک گرو و مائی سے ہوئی۔ اس کے بعد وہ یوگا اور میڈیٹیشن میں سکون تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ برسوں سے روزانہ میڈیٹیشن (meditation) کرتی ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ میڈیٹیشن کیا ہے۔ کیا وہ کوئی ذہنی عمل (intellectual process) ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر وہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ذہن کو سکون دیتا ہے:۔ It is quietening of the mind. میں نے کہا کہ میں ایک روحانیت پسند آدمی ہوں اور میں بھی میڈیٹیشن کا عمل کرتا ہوں۔ مگر میرا میڈیٹیشن ذہنی عمل کے ذریعہ ہوتا ہے، نہ کہ ذہنی عمل کو بند کر کے یا اس کو سپریس (Supress) کر کے۔ موجودہ صنعتی دور کے مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس کو ذہنی تناؤ (mental tension) کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال نے قدیم میڈیٹیشن کے طریقہ کو ایک نئی زندگی دے دی ہے۔ مغربی ملکوں میں مسلم صوفی اور ہندو سوامی کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مگر ذہنی عمل کو سپریس کرنے کا یہ طریقہ ایک قسم کی ذہنی تحذیر (intellectual aneaesthesia) ہے۔ انسان کی فطرت کے اعتبار سے اس کے لئے صحیح طریقہ ذہنی بیداری ہو سکتا ہے، نہ کہ ذہنی تعطل۔
پروفیسر محمود مراد ایک مصری اسکالر ہیں۔ وہ جنیوا میں رہتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوا کہ میں ژگ میں ہوں اور یہاں کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوں۔ ۱۴ اکتوبر کی شام کو ان کا ٹیلی فون آیا۔ دیر تک ان سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔
پروفیسر مراد نے کہا کہ میں نے انگریزی اور عربی میں آپ کی کافی کتابیں پڑھی ہیں۔ میں آپ سے پوری طرح اتفاق رکھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی مسلم دنیا میں آپ جیسا اسلامی اسکالر مجھے کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے وطن مصر گیا تھا۔ وہاں سڑک کا ایک حادثہ پیش آگیا۔ آج کل میں زیر علاج ہوں اور سفر کرنے سے معذور ہوں ورنہ میں ژگ آتا اور آپ سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues