Analogy is the weakest form of argument.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۴
اوپر کھڑا کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس طرح خدا کی معرفت حاصل کرے کہ اس کے احساس سے اس کا دل دہل اٹھے، اس کی سوچ کامل طور پر خدا رخٰی سوچ بن جائے، آخرت کا تصور اس کی نظر میں دنیا کو بے وقعت بنادے، خدا کی یاد اور خدا کی عبادت اس کی روح کی غذا بن جائے، اس کا اخلاق پوری طرح تواضع میں ڈھل جائے، وہ یک طرفہ طور پر سارے انسانوں کی خیر خواہی کرنے لگے، جنت اور جہنم کا یقین اس پر اتنا چھا جائے کہ وہ اس کا تحمل نہ کرسکے کہ وہ لوگوں کو ان اخروی حقیقتوں سے آگاہ نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ الدین کی اقامت شخصیت انسانی کو اللہ کے رنگ میں رنگنا ہے، نہ کہ خارجی دنیا میں رسی اور کپڑے کا کوئی خیمہ کھڑا کرنا۔
ان حضرات کا کہنا ہے کہ دین صرف عقائد و عبادات کا نام نہیں۔ دین میں ہر قسم کے اجتماعی اور سیاسی اور معاشی اور عدالتی احکام شامل ہیں۔ دین ایک مکمل نظام زندگی کا نام ہے۔ اس لیے ان سارے ہی احکام کو اقامت دین میں شامل کرنا ہوگا۔ مگر یہ ایک غیر علمی بات ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دین کے کیا کیا اجزاء ہیں اور دین کا لفظ قرآن میں کن کن معنوں میں آیا ہے۔ بلکہ اصولی اعتبار سے صرف یہ دیکھا جائے گا کہ سورہ الشوری کی مذکورہ آیت میں سیاق و سباق کے اعتبار سے الدّین کا مفہوم کیا ہے۔
مذکورہ نام نہاد جامع تفسیر کی غلطی اسی سے ثابت ہے کہ قرآن میں دین جزاء کے معنی میں بھی آیا ہے (مالک یوم الدین)۔ اگر مذکورہ قسم کی جامع تفسیر کو درست مانا جائے تو اُس میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ اہلِ ایمان یوم الدین کو قائم کریں اور لوگوں کو اُن کے عمل کے مطابق، جزاء و سزا دیں۔ ظاہر ہے کہ اقامت دین میں اقامتِ یوم الدین کے مفہوم کو شامل کرنا لغویت کی حد تک بے معنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مفسرین نے بلا استثناء سورہ الشوری کی آیت میں اقامتِ دین کا وہی مفہوم لیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد سیاسی مفسرین کے سوا کوئی ایک بھی مفسر ایسا نہیں جس نے یہ لکھا ہو کہ قرآن کی مذکورہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے نافذ کیا جائے۔ یہ ایک مبتدعانہ تفسیر ہے جو بلا شبہ قابلِ رد ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تعبیر کی غلطی)۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues