Al-Risala · September 2003 · page 55

رسول اللہ کا پیغام امن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۵۵

رسول اللہ کا پیغام امن

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنی قوم کی لسان (ابراہیم (۴) میں کلام کیا۔ مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود نے کہا: کلم الناس علی قدر عقولهم (لوگوں سے ان کے عقلی درجہ کے مطابق بات کرو)۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ داعی کا کلام ایسا ہونا چاہئے جو مدعو کے ذہن کو ایڈرس (address) کرے۔ جس میں مدعو اپنے سوالات کا جواب پا رہا ہو۔ ایسا کلام جو داعی کے خود اپنے ذہن کی نمائندگی کرے، اس میں مدعو کے ذہن کی رعایت نہ ہو، داعیانہ کلام نہیں ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے۔

کئی سال پہلے کی بات ہے۔ میں مسلمانوں کے ایک جلسہ میں ان کی دعوت پر شریک ہوا۔ اس کا موضوع سیرت رسول تھا۔ میں نے وہاں سیرت کے موضوع پر کسی قدر تفصیلی تقریر کی۔ تقریر کے بعد ایک باریش بزرگ مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت پر تو آپ کچھ بولے نہیں۔ میں نے تعجب کے ساتھ جواب دیا کہ میری ساری تقریر تو سیرت ہی پر تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں صرف رسول اللہ ﷺ کے اقوال اور آپ کے واقعات بیان کئے، یہی تو سیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ کو معجزات اور کرامات اور فضائل اور فتوحات جیسی چیزیں بیان کرنا چاہئے ۔

اپنے اس تجربہ سے میں نے ایک بہت بڑی حقیقت دریافت کی۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں سیرت کے جلسے ہو رہے ہیں مگر لقد كان لكم فی رسول الله اسوة حسنة (الأحزاب (۲۱) کے معیار پر جانچا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس پہلو سے سیرت کے جلسوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس قرآنی آیت کے مطابق، سیرت کی تقریروں کا یہ فائدہ ہونا چاہئے کہ لوگ رسول کے اسوہ کو جانیں اور اُس کو اپنی زندگی میں اختیار کریں۔ مگر میں نے اب تک ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو یہ کہے کہ اس نے ان جلسوں سے اسوہ رسول کا سبق پایا ہے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنا لیا ہے۔ ان جلسوں میں بس مخصوص روایتی ذہن کے مسلمان شریک ہوتے ہیں اور ان سے فخر کی غذا لے کر اپنے گھروں کو واپس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page