Al-Risala · September 2003 · page 65

ایک ملاقات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۵

تعلق نہیں ہے اور اس کو انہوں نے دعوت کا عنوان دے دیا ہے۔

مسلمانوں کی موجودہ تاریخ کا دعوت الی اللہ سے خالی ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے اسباب نہایت گہرے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں یا جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا ان میں دعوت الی اللہ کو سرے سے حذف کر دیا گیا۔ دعوت الی اللہ کیا ہے اور اس کے لازمی اجزاء کیا ہیں، یہ قرآن میں نہایت واضح طور پر موجود ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جو تفسیریں لکھی گئیں ان میں یہ سب چیزیں یا تو منسوخ کر دی گئیں یا ان کی تفسیر درست طور پر نہ ہوسکی۔ مثلاً دعوت کے لیے ضروری ہے کہ داعی دوسرے لوگوں کو اپنی قوم سمجھے، جیسا کہ قرآن کے بیان کے مطابق پیغمبروں نے سمجھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں دوسرے گروہوں کو کافر قرار دے کر انہیں غیر قوم کے خانہ میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے ضروری ہے کہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کیا جائے۔ مگر تفسیروں میں صبر کے حکم کو جہاد سے پہلے کے دور کی چیز قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے تالیف قلب لازمی طور پر ضروری ہے۔ مگر بعد کی تفسیروں میں تالیف قلب کے اصول کو ہمیشہ کے لیے منسوخ قرار دے دیا گیا۔ دعوت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو لا اسئلکم علیہ من اجر کے اصول پر چلایا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں دعوت کے ساتھ ملی حقوق کی مطالباتی مہم کو جوڑ دیا گیا، وغیرہ۔ شکایتی اور احتجاجی باتیں قاتل دعوت ہیں نہ کہ معاون دعوت۔ دعوت الی اللہ کے لیے قرآن کی شرطوں کو ملحوظ رکھے بغیر دعوت کا کام کرنا ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ اس کو دعوت الی اللہ کا مقدس نام ہرگز نہیں دیا جا سکتا۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ مقلدانہ ذہن کو توڑ کر مجتہدانہ ذہن کے تحت سوچا جائے۔ اس کے بغیر دعوت الی اللہ کا عمل کبھی زندہ نہیں ہوسکتا۔ (۳۰ مئی ۲۰۰۳)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page