ایک ملاقات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۶
سوال
جون ۲۰۰۳ء کا الرسالہ ملا۔ اس الرسالہ میں میرے نام ایک خط شائع ہوا ہے۔ آپ کا اصرار ہے کہ میں اپنا نقطۂ نظر تحریری طور پر بھیجوں آپ ضرور اس پر غور کریں گے۔ آپ ہمیشہ تنقید کو welcome کرتے ہیں۔ آپ کی اس یقین دہانی کے پیشِ نظر آپ کو اپنا opinion لکھ رہا ہوں ۔ امید کرتا ہوں آپ اس پر positive یا negative جو بھی آپ کی رائے ہوگی اس سے مجھے ضرور باخبر کریں گے۔ قبولیت تنقید کی بنیادی شرط ہے، فرد کو معاملہ سمجھنے کے لیے اپنے آپ کو خود فریبی کے حصار سے نکالنا، جو بات کہی جارہی ہے اس پر اپنے کامن سنس کو اپلائی کرنا، ورنہ خود فریبی معاملے میں پیچیدگی پیدا کر دیتی ہے اور فرد سمپل لاجک کو سمجھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
الرسالہ جون ۲۰۰۳ء کے سر ورق پر حسبِ معمول آپ کے قلم سے نکلا ہوا حسب ذیل جملہ نقل کیا گیا ہے۔
"کوئی آدمی کیا ہے، اس کو جاننے کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ وہ کیا باتیں کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کا حقیقی کردار کیا ہے۔ " یہ جملہ منفی سوچ کا آئینہ ہے۔ اس جملہ میں منفی سوچ ہے یہ کیسے معلوم کیا جائے۔ اس لیے ہم ایک تجربہ کرتے ہیں آپ بھی غور کریں۔
کوئی آدمی یہ کہے کہ "مولانا وحید الدین خاں کیا ہے، اس کو جاننے کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان کا حقیقی کردار کیا ہے۔ "۔ یہ یقیناً منفی سوچ negative thinking ہے۔
بااخلاق انسان کے لیے منفی سوچ سے پرہیز لازم ہے۔ الرسالہ جیسے تعمیری جریدہ میں منفی سوچ کو کیسے جگہ مل گئی حیرت ہے؟ الرسالہ جون ۲۰۰۳ء کے صفحہ نمبر ۳۳ اور ۳۴ پر آپ کا میرے نام لکھا ہوا جو خط شائع ہوا ہے اس کے پہلے پیراگراف میں آپ نے آگے آنے والی بحث کے لیے ایک ڈسپلن مقرر کیا ہے: "بنیادی سوال یہ ہے کہ کس کو کس کے تابع کیا جائے۔ حوصلہ کو برداشت کے تابع کیا جائے یا برداشت کو حوصلہ کے تابع۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues