ایک ملاقات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۸
اس سے رجوع کریں۔ اس مشق سے جملہ میں استعمال کیے گئے الفاظ کا فہم طالب علم کے ذہن پر نقش ہوتا ہے جس کی وجہ سے طالب علم لفظ کو سن کر یا پڑھ کر اس کے صحیح ادراک کو پالیتا ہے۔ اگر آپ لفظ حوصلہ کا استعمال کرتے ہوئے جملہ بنائیں گے تو آپ جان لیں گے کہ حوصلہ اس نفسیات کا نام ہے جس کے تابع برداشت۔ سچ بولنا، درگزر، اخلاق، سخاوت، انصاف، رواداری وغیرہ۔ ایسی کئی مثبت سوچ و عمل پر انسان کو ٹھہرائے رکھنے کی وجہ حوصلہ کی نفسیات ہے۔
میں نے آپ سے جو بات ٹیلی فون پر کہی تھی وہ قرآن شریف کی عربی لغت میں لفظ صبر کے فہم کے متعلق تھی۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ قرآنک عربک لغت میں لفظ صبر کا فہم اردو لفظ حوصلہ میں پورا ہوتا ہے۔ اردو کا لفظ برداشت قرآن شریف کے لفظ صبر کا کمزور ترین مفہوم ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آڑ میں آپ نے خط میں پورے معاملہ کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ اس خط میں آپ نے پہلے پیراگراف میں جن انگریزی الفاظ courage (حوصله)، patience (برداشت) کو نقل کیا ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہاں پر بھی آپ سے سہو ہوا ہے۔
انگریزی لفظ courage کے لیے اردو لفظ جرات، ہمت، بہادری قریب ترین لفظ ہیں۔ اردو لفظ برداشت کے لیے صحیح انگریزی لفظ tolerate یا tolerance ہیں۔ آپ اکثر اپنی تحریروں میں لفظ برداشت کے لیے ان ہی انگریزی لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔
انگریزی کا لفظ patience فہم کے اعتبار سے اردو لفظ برداشت سے بہت بلند ہے۔ اردو لفظ برداشت اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
انگریزی لفظ patience + confidence کا فہم قرآن ک عرب ک لغت کے لفظ صبر سے قریب ترین ہے اور اردو لفظ حوصلہ کے بھی۔
یہ الفاظ انسانی نفسیات کی علامت کے بطور بولے اور لکھے جاتے ہیں اور یہی نفسیات انسان کی سوچ میں مددگار ہوتی ہے اور اسی سے انسانی نفسیات کو تولا اور پرکھا جاتا ہے۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور، ۴ جون ۲۰۰۳)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues