Al-Risala · September 2003 · page 69

ایک ملاقات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۹

جواب

۱۔ خود فریبی کیا ہے اور کون شخص خود فریبی میں مبتلا ہے۔ اس کا تحقق کسی شخص کے مدعیانہ ریمارک سے نہیں ہو سکتا۔ اس کو معلوم استدلالی اصول کے مطابق موضوعی طور پر ثابت کیا جانا چاہئے۔ اس سے پہلے کسی کو خود فریبی کا شکار بتانا ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے نہ کہ کوئی علمی بیان۔ میں نے آپ کی تحریر کوئی بار پڑھا مگر میرا احساس ہے کہ آپ نے اس سلسلہ میں اپنے بیان کی کوئی بھی علمی دلیل نہیں دی ۲۔ الرسالہ ماہ جون ۲۰۰۳ میں سر ورق پر جو جملہ نقل کیا گیا ہے وہ دراصل مؤطا الامام مالک کی ایک روایت کا تقریباً ترجمہ ہے۔ یہ روایت حدیث کے اس مشہور مجموعہ میں کتاب الجامع کے تحت آئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : قال مالك وبلغنى ان القاسم بن محمد كان يقول : ادركت الناس وما يعجبون بالقول، قال مالك : يُريد بذلك العمل، إنما يُنظر إلى عمله ولا ينظر إلى قوله ( ص ۷۰۲) آپ نے الرسالہ کے جس شائع شدہ جملہ کو منفی سوچ کا آئینہ بتایا ہے اس کی زَدان مقدّس لوگوں تک جاتی ہے جو ثابت شدہ طور پر پوری امت کے لئے قدوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر کیا آپ اپنے مذکورہ تبصرہ کی اس توسیع کو پسند کریں گے۔ ۳۔ آپ نے الرسالہ جون ۲۰۰۳ میں میری چھپی ہوئی ایک عبارت کو انٹیلیکچول ڈس اونسٹی (intellectual dishonesty) قرار دیا ہے مگر آپ نے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ بات صرف اتنی تھی کہ صبر کا لغوی مفہوم کیا ہے اور اس کا استعمالی مفہوم کیا۔ میرا کہنا یہ ہے کہ صبر کا لغوی مفہوم برداشت یا اپنے آپ کو روکنا ہے۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں صبر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: اصل الصبر الحبس، الصبر نقيض الجزع جس طرح پیش تر الفاظ کے استعمالی مفہوم میں توسیع ہوتی ہے اسی طرح صبر کے استعمالی مفہوم میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ خالص علمی اعتبار سے میرے اس نقطۂ نظر میں اعتراض کا پہلو کیا ہے۔

آپ نے جس چیز کو انٹیلیکچول ڈس اونسٹی کہا ہے وہ میرے لیے نا قابل فہم ہے۔ میں الرسالہ میں اکثر اس طرح کی مثالیں دیتا رہا ہوں کہ تاریخ کی کئی بڑی شخصیتوں میں حوصلہ اور ہمت کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page