ایک ملاقات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۰
زبردست صلاحیت تھی مگر وہ نا کام ہو گئے کیوں کہ انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جس صورت حال کے مقابلہ میں وہ اپنے حوصلہ کا استعمال کر رہے ہیں وہ دراصل برداشت کا معاملہ ہے۔
مثال کے طور پر ہندوستان کی دو شخصیتوں کو لیجئے ۔ سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی۔ دونوں یکساں طور پر با حوصلہ شخص تھے۔ دونوں نے برٹش ایمپائر کے خلاف اقدام کیا۔ اس اقدام میں سبھاش چندر بوس مبینہ طور پر ناکام رہے اور مہاتما گاندھی کامیاب۔ اس کا سبب یہی تھا کہ سبھاش چندر بوس کے پاس حوصلہ تھا مگر ان کے پاس صابرانہ منصوبہ بندی نہ تھی۔ جب کہ گاندھی کے پاس حوصلہ کے ساتھ صابرانہ منصوبہ بندی بھی موجود تھی۔ اس فرق نے ایک کو نا کام بنا دیا اور دوسرے کو کامیاب کر دیا۔ میں نے اپنی تحریر میں حوصلہ کے مفہوم کو بگاڑا نہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ حوصلہ کو برداشت کے تابع رکھا جائے نہ کہ برداشت کو حوصلہ کے تابع بنایا جائے ۔ یہ واضح طور پر تدبیر کار کا معاملہ ہے نہ کہ انٹلکچول ڈس آنسٹی کا معاملہ۔
۴- آپ نے جو مثالیں نقل کی ہیں وہ سب فرضی مثالیں ہیں۔ کسی ڈسکشن میں اسی مثال کا تجزیہ کرنا چاہئے جو پیش کرنے والے نے پیش کی ہے۔ مفروضہ مثال سے ڈسکشن میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ مثلاً آپ نے confidence اور over confidence کا تقابل کیا ہے۔ اسی طرح آپ نے ڈاکو کو بہادر اور چور کو عقلمند کہنے کی مثالیں دے کر اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو میری تحریر میں موجود نہیں۔ آپ کو میری تحریر میں وارد شدہ الفاظ یا مثال کا تجزیہ کر کے اپنی بات ثابت کرنا چاہئے، نہ کہ آپ کچھ مفروضہ مثالوں کو لے کر اپنا نقطۂ نظر ثابت کریں۔ اس قسم کی مثالیں اصل بحث کی نسبت سے ارریلیوینٹ (irrelevant) ہیں۔
۵- آپ نے اپنی تحریر میں ایک عجیب و غریب نصیحت مجھے یہ کی ہے کہ " آپ اپنی تحریر کی خامی کو پرکھنے کے لیے پرائمری اسکول کے بنیادی سبق کی مشق کریں ۔ " میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ کی ان سطروں کا زیر بحث مسئلہ سے کیا تعلق ہے۔ یہ ایک مجرّد ریمارک ہے اور مجرّد انداز میں منفی ریمارک کسی بھی شخص کے بارے میں کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس قسم کے ریمارک سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues