Al-Risala · September 2003 · page 71

ایک ملاقات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۱

۶۔ آپ کی کچھ سطریں لسانیات سے متعلق ہیں۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے کہ انگریزی لفظ پیشنس (patience) فہم کے اعتبار سے اردو لفظ برداشت سے بہت بلند ہے۔ آپ کا یہ بیان صرف ایک دعویٰ ہے جس کے لیے آپ نے کوئی دلیل نہیں دی۔ انگریزی کے مشہور لغت ویبسٹر (Webster's) میں پیشنس (patience) کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: The will or ability to wait or endure without complaint. (p. 1314)

ٹھیک یہی مفہوم برداشت کا بھی ہے، پھر دونوں میں کیا فرق۔

۷۔ آپ نے پورے خط میں ایک عجیب و غریب انداز اختیار کیا ہے۔ آپ نے میرے خلاف کئی سخت بیانات دئے ہیں۔ مگر آپ نے اپنی تائید میں کوئی دلیل نہیں دی اور نہ کسی بات کا علمی اصول کے مطابق تجزیہ کیا۔ آپ نے صرف خود اپنے بیان پر انحصار کیا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ شعر و شاعری میں مستند ہے میرا فرمایا ہوا کا انداز تو ضرور چل سکتا ہے مگر علمی بحث میں یہ انداز بالکل بے فائدہ ہے ۔ آپ کو مدعیا نہ کلام کے بجائے مدلّل کلام کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ ۸۔ آپ کے خط میں ایک اور بڑی عجیب بات ہے اور وہ ہے مجھ پر انٹلکچول ڈس آنسٹی کا الزام لگانا۔ آپ کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ متعین اور مشخص طور پر کسی پر اس قسم کا ذاتی الزام لگانا بے حد سنگین بات ہے۔ ایسے الزام کے لئے ناقابل تردید دلائل درکار ہیں۔ محض قیاسی اندازہ اس کے لیے کافی نہیں۔ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ اس قسم کی باتوں کو اختلاف رائے کے خانہ میں ڈالیں نہ کہ انٹلکچول ڈس آنسٹی کے خانہ میں۔ انٹلکچول ڈس آنسٹی کا تعلق نیت سے ہے اور نیت کا علم صرف خدا کو ہے۔ یہ بے حد غیر ذمہ دارانہ بات ہے کہ قطعی دلائل کے بغیر کسی متعین شخص پر انٹلکچول ڈس آنسٹی کا الزام لگایا جائے ۔

۹۔ آپ کا ایک ارشاد یہ ہے کہ میں نے لفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اگر میں کہوں کہ زندگی میں کامیابی کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہے بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی اپنے جذبات کو تھام کر اپنے اقدام کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page