Al-Risala · September 2003 · page 72

ایک ملاقات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۲

دور اندیشانہ منصوبہ بندی کرے تو یہ حوصلہ کے مفہوم کو بگاڑنا نہیں ہوا بلکہ یہ زندگی کی وسیع تر حقیقتوں کو سامنے رکھ کر اس کا مفہوم متعین کرنا ہے۔ آپ کو غالباً معلوم ہوگا کہ حضرت عمر نے خالد بن ولید کو سپہ سالار کے مقام سے ہٹایا تھا تو اس کا ایک خاص سبب یہ تھا کہ حضرت خالد ایک بے حد حوصلہ مند آدمی تھے اور اپنے اس جذبہ کے تحت ایسا اقدام کر دیتے تھے جو حضرت عمر فاروق کے نزدیک سنگین رسک لینے کے ہم معنی تھا۔

۱۰۔ تنقید کو قبول کرنے کی شرط وہ نہیں ہے جو آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمائی ہے۔ آپ کی زیر نظر تحریر کی نسبت سے اس کی شرط یہ ہوگی کہ تنقید علمی طور پر درست ہے۔ جیسا کہ اوپر کے تجزیہ سے واضح ہوتا ہے، آپ کی تنقید علمی اعتبار سے درست ہی نہیں۔ ایسی حالت میں اس کو کس طرح قبول کر لیا جائے گا۔

یہاں میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ تنقید ایک بے حد مشکل کام ہے۔ صحیح تنقید کے لیے کئی ضروری شرطیں درکار ہیں۔ مثلاً ناقد متعلقہ موضوع پر عالمانہ نظر رکھتا ہو۔ اس کو معلوم ہو کہ علمی فریم ورک کیا چیز ہے۔ وہ ریلیوینٹ (relevant) اور ارریلیونٹ (irrelevant) کے فرق کو بخوبی جانتا ہو۔ وہ عقل پر مبنی استدلال (reason based argument) سے بخوبی طور پر واقف ہو۔ وہ جانتا ہو کہ لفظی الزام اور مدلل تنقید میں کیا فرق ہے، وغیرہ۔ جس آدمی کو ان باتوں کا گہرا علم نہ ہو اس کو اس حدیث رسول کو اپنا رہنما بنانا چاہئے : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت۔

سوال

آپ سے الرسالہ کے متعلق دو سوال عرض کرتا ہوں، شاید آپ جواب دے سکیں۔ کیوں کہ آپ کی تو عادت ہے جواب سے کترانا اور ایسا جواب دینا جس سے سائل متفق نہ ہو سکے۔ ۱۔ آپ نے الرسالہ فروری ۲۰۰۳ء کے صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے کہ میں ملحد ہو گیا۔ اور پھر ۱۹۴۹ء میں دوبارہ اعظم گڑھ کی جامع مسجد میں ماسٹر عبد الحکیم انصاری کے سامنے کلمہ شہادت ادا کیا۔ آپ کو

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page