ایک ملاقات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
کس خیال نے منکر بنایا؟ اور آپ نے پھر دوبارہ اسلام قبول کیسے اور کیوں کیا؟ دوسرا سوال اسی سے متعلق یہ ہے کہ آپ نے الرسالہ ستمبر 1999ء میں لکھا ہے کہ میری شادی 1942ء میں ہوئی۔ یعنی منکر کی حالت میں آپ نے شادی کی تو کیا اسلام لانے کے بعد دوبارہ نکاح کیا؟ جب کہ آپ نے نکاح حرام کیا تھا؟
۲۔ آپ نے ”صدام حسین کے لیے انتخاب“ کے تحت الرسالہ جون 2003ء میں لکھا ہے صدام حسین کو وہاں سے ہٹ جانا چاہئے۔ یہ ایک ایسا پاگل پن مشورہ ہے جسے کوئی بھی باشعور انسان قبول نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کے ساتھ امیریکا کہے کہ آپ اپنے مشن کو ختم کرڈالیں اور ہندوستان سے نکل جائیں ورنہ آپ کو تباہ کر ڈالا جائے گا تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟ شاید آپ جواب دیں مجھے تو امید نہیں ہے ۔ (شاہ عمران حسن ، دلاور پور ، مونگیر)
جواب
سائل کا سوال یہاں سائل کے اپنے الفاظ میں پورا نقل کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ سوالات کا جواب مختصر طور پر عرض ہے۔
۱۔ الرسالہ فروری 2003ء میں جس معاملہ کا ذکر ہے وہ وقتی طور پر اسلام کے بارے میں کچھ شکوک وشبہات کا ذہن میں پیدا ہونا ہے۔ اس قسم کے شکوک وشبہات ہمیشہ ان لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو تخلیقی فکر کے مالک ہوں۔ یہ شکوک وشبہات کسی سنجیدہ انسان کے لیے عظیم تر یقین تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ کی توفیق سے میرے ساتھ پیش آیا ۔ شکوک وشبہات کا یہ وقتی معاملہ تاریخ میں بہت سے بڑے بڑے علماء کو پیش آیا ہے۔ مثلاً امام ابو الحسن اشعری، امام الغزالی ، امام الرازی ، مولانا عبد الماجد دریا آبادی، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ۔ اس قسم کا مرحلہ پیش آنا کوئی عیب کی بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتی عقیدہ سے گزر کر اعلی معرفت حق تک پہنچنے کا ایک مرحلہ ہے۔ وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جن کو اللہ کی رحمت سے یہ مرحلہ پیش آئے۔
۲۔ میرے ساتھ جو مذکورہ مرحلہ پیش آیا وہ خدا نخواستہ ترک اسلام یا انکارِ اسلام کا مرحلہ نہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues