آنچه دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
تھا۔ وہ صرف تحقیق مزید کا معاملہ تھا۔ چنانچہ ان سالوں میں بھی میں مسلسل اللہ سے دعا کرتا تھا۔ میں حسب معمول دوسرے مسلمانوں کی طرح نماز و روزہ ادا کرتا تھا۔ اور خصوصیت سے قرآن کے ان الفاظ پر غور کیا کرتا تھا جو ایک پیغمبر کے حوالہ سے آئے ہیں: قال او لم تؤمن قال بلیٰ ولكن ليطمئن قلبی (البقره ۳۶۰)
۳۔ جہاں تک صدام حسین کے بارے میں میرے مشورہ کا معاملہ ہے تو اس میں سائل کی حیثیت ایک فارسی مقولہ کے مطابق ، مدّعی سست گواه چست کی مانند ہے۔ صدام حسین صاحب کو یہ مشورہ میں نے آغاز جنگ سے تقریباً ایک مہینہ پہلے دیا تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، صدام حسین صاحب نے یہ مشورہ اس وقت نہیں مانا مگر جب امریکہ نے شدید بمباری کے ذریعہ صدام حسین کے محلوں اور بنکروں اور پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا مشورہ میں نے پہلے دیا تھا۔ یعنی وہ خاموشی کے ساتھ اپنی سیاسی گدّی کو چھوڑ کر بغداد سے باہر چلے گئے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ صدام حسین صاحب کا یہ فعل فارسی شاعر کے اس شعر کا مصداق ہے کہ جو دانشمند کرتا ہے وہی نادان بھی کرتا ہے لیکن کافی تباہی کے بعد :
آنچه دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
۴۔ کلمہ شہادت کو بار بار ادا کرنا ایک اہم اسلامی تعلیم ہے اور وہ تمام علماء صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جدّدوا ایمانکم بقول لا الٰہ الا الله (تم لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو)۔ سوال یہاں دو سوالات درج کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ دونوں سوال بہت اہم ہیں۔ براہ کرم دونوں سوالوں کے واضح جواب عنایت فرمائیں۔ ایک یہ کہ جماعت اسلامی کے ایک سینئر عالم نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ اس امت کی ایک تاریخ ہے، عظیم الشان تاریخ، ایسی تاریخ کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اس تاریخ پر ہم فخر کرتے ہیں اور بجاطور پر کرتے ہیں۔ (سہ ماہی تحقیقات اسلامی،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues