آنچه دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳
علی گڑھ، جنوری - مارچ ۲۰۰۳ ،صفحہ ۶) کیا تاریخ پر فخر کرنا اسلامی نقطہ نظر سے صحیح ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہے۔ انٹرویو کا ایک سوال یہ تھا کہ ملک کی فسطائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو کیسے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں امت کے لئے جماعت کی رہنمائی کیا ہے۔ امیر جماعت نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کہ’’جماعت مسلمانوں سے کہتی ہے کہ انہیں آگے بڑھ کر اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔ جولوگ جمہوری فضا ختم کرنا چاہتے ہیں ، جو مذہبی آزادی پر قدغن لگانا چاہتے ہیں، انہیں ہر قیمت پر اقتدار میں آنے سے روکیں۔ اس کا مشورہ ہم مسلمانوں کو دیتے ہیں۔ “ (ماہنامہ افکارملی، نئی دہلی، مئی ۲۰۰۳ ،صفحہ ۲۶) کیا آپ کے خیال سے ہندستانی مسلمانوں کے لیے یہ سیاسی پالیسی درست ہے۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی) جواب ۱۔ پہلے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ تاریخ پر فخر کرنا ایک بدعت ہے۔ صالحین امت میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین میں سے کوئی بھی شخص نہیں ہے جس نے یہ کہا ہو کہ مجھے امت کی تاریخ پر فخر ہے۔ اسی طرح محدثین اور فقہاء اور مفسرین نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ امت کی مشہور شخصیتوں میں سے کسی نے کبھی بھی ایسی بات نہیں کہی۔ مثلاً حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز، الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ وغیرہ۔ ان میں سے کسی نے بھی ایسا نہیں لکھا۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ کلام ہے۔ یہ قوم پرستی کے مزاج کے تحت نکلے ہوئے الفاظ ہیں، نہ کہ خدا پرستی کے تحت نکلے ہوئے الفاظ۔ امت کی تاریخ بالفرض عظیم الشان تاریخ ہو تب بھی وہ ہمارے لیے شکر کی بات ہے نہ کہ فخر کی بات۔ تاریخ چونکہ کبھی معیاری نہیں ہوتی اس لیے تاریخ کو فخر کا موضوع بنانے کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ اس سے قومی تعصب کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ فخر کی نفسیات یہ چاہتی ہے کہ جس چیز پر فخر کیا جا رہا ہے وہ نقص سے پاک ہو۔ اس لیے ایسے لوگوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مزاج بن جاتا ہے کہ میری قوم ہر حال میں صحیح ہے اور دوسری قوم ہر حال میں غلط۔ اپنی قوم کے خلاف تنقید سن کر انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا فخر ٹوٹ رہا ہے۔ اس لیے نزاعی معاملات میں وہ ہمیشہ دوسری قوم پر الزام
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues