Al-Risala · September 2003 · page 28

آنچه دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۲۸

دیتے ہیں اور اپنی قوم کو بری الذمہ ثابت کرتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ایسے لوگوں میں ایک شدید تر برائی پیدا ہو جاتی ہے، وہ ہے اپنے قومی احتساب سے محروم ہو جانا۔

۲۔ دوسرے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد مسلمانوں نے اپنے رہنماؤں کی پیروی میں بار بار ایسا کیا ہے کہ ہر الیکشن کے موقع پر وہ مفروضہ فسطائی پارٹیوں کے خلاف ووٹ دے کر انہیں ہرائیں اور انہیں اقتدار میں آنے نہ دیں۔ اس سیاسی طریقہ کار کی پشت پر ماضی میں بڑی بڑی مسلم شخصیتوں کے نام شامل رہے ہیں۔ مگر یہ تجربہ مکمل طور پر ناکام ہوا۔ مسلمانوں کی یہ ہرانے کی پالیسی مسلسل طور پر ’’فسطائی طاقتوں‘‘ کو جتاتی رہی۔ آزادی کے بعد مفروضہ فسطائی پارٹی کے صرف دو ممبر مرکزی پارلیمنٹ میں ہوتے تھے۔ آج یہ لوگ مرکز میں حکمراں کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ کئی ریاستوں میں اُن کی حکومت قائم ہے۔ حتی کہ پچھلے سال گجرات میں اسی قسم کی ہرانے کی پالیسی کے نتیجہ میں مفروضہ فسطائی پارٹی کو ایسی جیت حاصل ہوئی کہ ریاست میں اُس کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس تجربہ کی روشنی میں اب اصل مسئلہ سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کا ہے، نہ کہ اس کو مزید جاری رکھنے کا۔ مذکورہ سیاسی پالیسی کو جاری رکھنے کا مشورہ دینا، فارسی مثل کے مطابق ، آزموده را آزمودن جہل است کے ہم معنی ہے۔ یعنی آزمائے ہوئے کو آزمانا صرف ایک نادانی ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کو یہ کرنا چاہئے کہ اگر اُس کے پاس مسئلہ کا کوئی واقعی حل نہیں ہے تو وہ کم از کم یہ کرے کہ وہ اس سوال پر چپ ہو جائے۔

ایک اور پہلو سے دیکھئے تو مفروضہ فسطائی طاقتوں کو ہرانے کی پالیسی سراسر غیر اسلامی ہے۔ مسلمان اس ملک میں داعی ہیں اور تمام ہندو اُن کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی اور مدعو کا یہ تعلق مذکورہ قسم کی تفریقی پالیسی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ داعی کی حیثیت سے ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم تمام ہندوؤں کو یکساں طور پر امتِ دعوت کی نظر سے دیکھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues

Printed page