Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

انہوں نے نوجوان طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرا قد حکیم عبدالحمید سے چھوٹا ہے مگر میں حکیم عبدالحمید کے کندھوں پر کھڑا ہوا ہوں ۔ ۱۹۷۲ میں حکیم عبدالحمید صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز جنگل کی سطح سے کیا تھا آج آپ اپنی زندگی کا آغاز یونیورسٹی کی سطح سے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اس کا شکر ادا کیجئے اور عزم و ہمت کے ساتھ ایک نئے مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کر دیجئے ۔

۱۲۔ راشٹریہ سہارا اُردو (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۲۴ جولائی ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ ایک ہندو پارٹی نے مانگ کی ہے کہ قرآن کی کچھ آیتوں کو قرآن سے نکال دیا جائے۔ جواب میں کہا گیا کہ قرآن کی آیتوں پر یہ اعتراض سراسر لغو ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ قرآن اپنے مخاطبین کو الانسان اور الناس کہہ کر خطاب کرتا ہے اس لیے قرآن کے مطابق ، ساری دنیا دار الانسان ہے، نہ کہ دار الكفار۔ مائنارٹی کمیشن کے ڈائیلاگ (۱۴ جولائی) کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے بارہ میں یہ نہ کہئے کہ وہاں ملی نمائندے نہیں تھے بلکہ یہ کہئے کہ وہاں ملی دادا نہیں تھے۔

۱۳۔ حیدر آباد سے مولانا سید اکبر الدین قاسمی اپنے خط مورخہ ۲۵ جولائی ۲۰۰۲ میں لکھتے ہیں : یکساں سول کوڈ آپ کا مؤقر کتابچہ جو اس موضوع پر ہزاروں کتابوں پر بھاری ہے وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حالیہ اجلاس (حیدر آباد) کے موقع پر شرکاء اجلاس میں تحفۃً تقسیم کیا گیا۔ اس کو بہت پسند کیا گیا۔ میرٹھ کے سفر نامہ میں مسلم انٹلیکچول فورم کا آپ نے تذکرہ فرمایا تھا، اسی نہج پر یہاں کام کرنے کے لیے یہ فورم قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

۱۴۔ ۱۸ اگست ۲۰۰۲ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب (اسپیکر ہال) میں ایک گوشٹی ہوئی۔ اس کا انتظام سار بدیشک آرے پرتی ندھی سبھا نے کیا تھا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور قومی ایکتا کے موضوع پر ایک تقریر کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page